کالم نگارلوئیر چترال

انقلابی تبدیلی چترال میں

قاری میر فیاض چترالی

پاکستان تحریک انصاف علماء ونگ

 

گانکورینی بی جان ہوٹل کے سامنے پل پر تعمیراتی کام اختتامی مراحل میں داخل ہے جلد ہی ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا یہ پل بننے سے سینگور ،چترال یونیورسٹی اور اہلیانِ گرم چشمہ کے علاوہ چترال آنے والے سیاح مستفید ہوں گے۔

گذشتہ دس سال پہلے کے چترال میں صرف دو ہی پل تھے جنہیں معیاری کہا جا سکتا ہے۔ چترال چھاؤنی پل اور چیو پل یعنی گذشتہ کئی سالوں میں صرف یہی دو پل بنے تھے اب آٹھ سال کے قلیل عرصے میں چترال میں کئی معیاری آر سی سی یا سٹیل پل بن چکے ہیں ۔ جسے انقلابی تبدیلی نہ کہنا نا انصافی ہو گی ۔

اس پل کے علاوہ ایون پل ، کوشٹ پل ،مژگول موڑکہو پل، گہکیر پل اور استارو پل شامل ہیں۔ یہ تمام پل معیاری اور شاندار پل مکمل طور پر نئے سرے سے بنے ہیں ان کے علاوہ کئی خستہ حالی کے دور سے گذر رہے تھے انہیں بھی ریپئر کیا گیا ہے چترال میں بہت سارے علاقے ایسے ہیں جہاں کے باسی اب تک ٹرک سے نا اشنا تھے کمزور پلوں کی وجہ سے ٹرکوں کے بجائے چھوٹی چھوٹی گاڑیوں کو ضرورت کے وقت استعمال کیا جانا معمول کا حصہ رہا ہے۔  

جہاں اپ ایک ہی لوڈ میں مناسب پیسوں سے ٹرک کے ذریعے اپنا کام نکال سکتے تھے وہاں کئ لوڈ گاڑیوں کو کرنا پڑتا تھا جسے وقت کے ساتھ ساتھ کاروباری افراد کے لئے فائدہ کے بجائے کبھی کبھی نقصان کا خدشہ بھی رہتا تھا۔ 

ان تمام تکمیل شدہ پلوں کے لئے معاون خصوصی وزیر زادہ کی کو خصوصی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے چترال کی ترقی کے لئے دن رات ایک کی ہے۔ اور آج ان کی کوششوں کا نتیجہ ہم سب کے سامنے ہیں ۔ 

انصافی حکومت نے چترال میں تعمیر و ترقی کے حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر کام کر کے تبدیلی کا وعدہ وفا کر دیا۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button