اپر چترالتورکھوخبریں

تورکھو روڈ اور پل پر کام کی سست رفتاری کے خلاف عوامی احتجاج ، ایم این اے اور ایم پی اے کی شرکت۔

بونی (ذاکر زخمی ) تورکھو،تریچ یوسی اتحاد اور تورکھو تریچ روڈ فوروم کی اشتراک سے تورکھو ورکپ میں تورکھور روڈ مسلہ کے بارے ایک عوامی احتجاج کا انعقاد ہوا جس میں تورکھو،تریچ یو سی سے عوام نے بھر پور انداز میں شرکت کی۔ساتھ خصوصی طورپر سی۔ڈی۔ایم روڈ اور ڈیمانڈچترال کے چیرمین وقاص احمدیڈوکیٹ، تحریکِ حقوق عوام اپر چترال کے سرگرم رکن،نوجوان سیاسی قیادت پرویز لال، تحریک تحفظِ حقوق چترال پاکستان کے چیرمین اور ممتاز نوجوان سوشل ورکر پیر مختار نبی نے بھی اس جلسے میں شرکت کی۔

جو ہر وقت تورکھو روڈ مسلہ پر اواز اٹھاتے رہے ہیں۔یہ تینوں شخصیات خصوصی دعوت پر جلسے میں شرکت کی۔تورکھو،تریچ روڈ فوروم کے نوجوانان اس جلسے کو ممکن بنانے کے لیے دن رات ایک کرکے محنت کی۔ اس وجہ سے جلسہ شانداراورنظم و ضبط کے ساتھ منعقد ہونا ممکن ہوا۔جلسہ کی نظامت ممتاز سوشل ورکر،متحریک نوجوان حسین زرین نے انجام دی جو علاقے کے لوگوں کو یکجا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

تلاوتِ کلام پاک سے آغاز کیا گیا۔۔ صدارت ریٹائرڈ ایس پی محمد سید خان لال نے کی۔جلسہ شروع ہوتے ہی ممبر قومی اسمبلی چترال مولانا عبد الااکبر چترالی اور ممبر صوبائی اسمبلی چترال مولانا ہدایت الرحمن خصوصی طور جلسے میں شرکت کے لیے چترال سے ورکپ پہنچ گئے۔

ابتدائی کلمات چیرمین سی۔ڈی۔ایم روڈ اور ڈیمانڈ وقاص احمد ایڈوکیٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ جلسہ کی نوعیت آج ذرہ مختلف ہوتے اگر ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد علی صاحب اور ایم۔پی۔اے مولانا ہدایت الرحمن صاحب بروقت کردار ادا نہ کرتے۔ان کے کردار ادا کرنے کی وجہ سے جلسے کو ورکپ تک محدود رکھا گیا۔ حالانکہ اس جلسے میں لانگ مارچ،بھوک ہڑتال، اور دھرنے شامل تھے۔ڈپٹی کمشنر اپر چترال اور ایم۔پی۔اے چترال کی بروقت اقدامات پر یہ سارے تجاویز موخر کردئیے جاتے ہیں۔

کیونکہ ڈپٹی کمشنر جب سے اپر چترال اکر چارج سنبھالا ہے ہم ایک تبدیلی محسوس کر رہے کہ وہ خود کو دفتر میں محدود کرنے کے بجائے عوامی مسائل کے حل کرنے پر دلچسپی لے رہے ہیں جس کا واضح ثبوت ان کا استارو اکر حالات کا جائزہ لیکر بروقت اقدامات اٹھانا ہے۔جس کے نتیجے پُل لانچینگ میٹریل استارو پہنچا رہے ہیں۔ اور قوی امید ہے کہ ڈی سی صاحب کے مقرر کردہ تاریخ تک پُل لانچینگ پر باقاعدہ کام شروع ہوگا اور اس کے علاوہ بھی روڈ پر دوسرے کام میں تیزی ائیگی۔لہذا ڈپٹی کمشنر صاحب کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہم احتجاج کو آج تک محدود کرتے ہوئے دوسرے تمام اپشنز کو موخر کردیتے ہیں۔

اور ڈپٹی کمشنر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید کرتے ہیں کہ عوام کی پریشانی کا احساس کرتے ہوئے اس روڈ کی تکمیل تک اس کی نگرانی کرینگے۔دیگر مقررین میں سفیر اللہ وشیچ۔شیر بہادر ریچ، ریٹائرڈ کمشنر سلطان وزیر اجنو،شیر عزیز بیگ کھوت،سیف الاسلام و مولانا عطا ارلرحمن تریچ،عبد القیوم بیگ و احمد اللہ شاگرام، قدر خان مڑپ،عبد الصمد لال و محمد ہاشیم خان رائین، عمیر خلیل،فرہاد اللہ،ڑیٹائرڈ صوبیدار جلال الدین ورکپ،اشفاق احمد استارو،پرویز لال تحریک حقوق عوام اپر چترال، پیر مختار نبی تحریکِ تحفظِ چترال پاکستان،مداک کے نمائیدہ و دیگر نے اپنے اپنے علاقوں کی نمائیدگی کرتے ہوئے تورکھو روڈ پر کام کی سست روی پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے عوامی نمائیندوں کو متنبہ کی کہ دس دن بعد اگرکام میں خاطر خواہ پیش رفت دیکھنے کو نہ ملی تو اس کے منفی اثرات عوامی شدید ردِ عمل کی صورت میں سامنے اسکتی ہے مقررین کا کہنا تھا روڈ شروع ہوئے جو بچہ پیدا ہوا تھا آج اس احتجاج میں شریک ہوکر روڈ کامطالبہ کر رہی ہے جو کہ اداروں سے لیکر نمائیدوں تک سب کے لیے باعثِ شرم ہے۔مزید نمائیدوں کی غفلت ہمارے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔

مقررین نے ڈی۔سی اپر چترال کی کردار پر انہیں خراجِ تحسین پیش کی ساتھ پاک سرزمین پارٹی کے چیرمین سید مصطفی کمال جو ہر وقت کرچی سے تورکھو روڈ کے لیے توانا آواز بلند کرتا رہتا ہے ان کا بھی خصوص زندہ باد کے ساتھ شکریہ ادا کیا گیا۔جو پریس کانفرنس اور ویڈیو پیغام کے ذریعے تورکھو روڈ کی تکمیل کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

ایم۔پی اے ہدایت الرحمن نے اپنے خطاب میں عوامی کی احتجاج اور جلسہ کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی ان جد و جہد سے ہمیں قوت ملتی ہے اور ہم سے گلہ مندی کرنا اور پوچھنا اپ کا حق ہے۔انہوں نے اس سلسلے اپنی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر چہ یہ صوبائی مسلہ نہیں یہ مرکز کا منصوبہ ہے پھیر بھی ریکارڈ پر موجود ہیں کہ میں اس پر خاموشی اختیار نہیں کی بلکہ اسمبلی فلور پر اس اہم مسلے کو اٹھاتا رہتا ہوں۔ انہوں نے تورکھو میں منظور کرائے ہوئے مختلف منصوبوں کا ذکر تے ہوئے کہا کہ عنقریب ٹینڈر ہوکر عملی کام شروع ہونے والے ہیں ان میں ریچ روڈ کے لیے ایک کروڑ روہے اجنو لینگ روڈ کے لیے 70 لاکھ رمڑپ روڈ کے لیے ایک کروڑ نوی لاکھ،تریچ روڈ کے لیے ایک کروڑ روپے،کھوت روڈ کے لیے اسی لاکھ اور کھوت پل کے لیے ایک کروڑ روپے کی منصوبوں کا خصوصی ذکر بھی کیا۔جو صرف روڈ کے لیے مختص کی ہوں دوسرے منصوبے ان کے علاوہ ہیں۔

ایم۔این۔اے مولانا عبد لاکبر چترالی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بونی بوزوند روڈ کے لیے اپنے کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اب تک اس روڈ کے لیے 26 کروڑ روپے منظور کراچکا ہوں جو روڈ پر خرچ ہوئے اور اس وقت بھی میں جد وجہد کرکے اس روڈ کے لیے مزید فنڈ مرکزی حکومت سے منظور کر اچکا ہوں جو عنقریب محکمے کو ملینگے اور کام بلا تعطل جاری رہیگا۔ میں اس اہم مسلہ سے غافل ہر گز نہیں۔انہوں نے کہا تور کھو کے دیگر مسائل کے نشاندہی اور ان کے حل کے سلسلے21اگست کو ڈی سی اپر چترال کے ساتھ ایک میٹنگ رکھا جائیگا جس میں عوام کی کمیٹی اورایم پی اے بھی شریک ہونگے اور کوشش ہوگی کہ معاون خصوصی وزیرزادہ کو بھی شریک ہواور تورکھو کے جملہ مسائل زیر بحث لاکر ان کے حل کے لیے جامع منصوبہ بندی کی جائیگی۔

اپنے صدارتی خطاب میں محمد سید خان لال شرکاء جلسہ ایم این اے اور ایم پی اے کا شکریہ ادا کیا کہ اس اہم مسلے کی حل کے لیے باہمی ہم اہنگی کے ساتھ جلسہ منعقد ہوئی جس میں عوامی نمائیندوں کی شرکت اس کی کامیابی ہے اور یہ مسلہ حل ہونے تک اس پر نظر رکھی جائیگی جب بھی جہاں بھی کمزوری نظر ائیے تو عوام کواگاہ کیا جائیگا اور کو جلسہ کی کال دی جائیگی اس لیے عوام کو مستعید رہنے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button