خواتین کا صفحہصحتکالم نگار

میموگرافی کیا ہے ؟؟

نثار احمد

تلخ و شیریں

 

      امریکہ میں مقیم چترالی فیملی کے تعاون سے کینسر کیئر ہسپتال لاہور کے زیر اہتمام چترال میں جاری میموگرافی کا عمل آج بحسن و خوبی انجام پذیر ہوا۔ میمو گرافی میں چترال کے طول و عرض سے ساڑھے پانچ سو کے قریب خواتین کا معاینہ کیا گیا۔

         انسان کے بدن میں سرطان (Cancer) کے اثرات کی تشخیص میمو گرافی کی بدولت ممکن ہوتی ہے۔اس میں چھاتی کے ایکس رے کیۓ جاتے ہیں ایکسرے میں چھاتی کے اندر ہونے والی کسی بھی قسم کی تبدیلی یا گلٹی کا پتہ چل جاتا ہے ۔ اس کے زریعے سینے میں پیدا ہونے والی گلٹیوں کو بڑے ہو کر تباہی پھیلانے سے قبل ہی دریافت کر کے جان لیوا ہونے نہیں دیا جاتا۔

 عام طور پر چالیس سال سے زائد العمر خواتین ہی سینے کے سرطان (بریسٹ کینسر) کے ہتھے چڑھ کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں اس لیے چالیس سال سے زائد عمر کی ہر خاتون کو میمو گرافی کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ جن ممالک میں خواتین ہر دو تین سال بعد میمو گرافی یعنی سینے میں سرطان کے اثرات کا معاینہ کرواتی ہیں ان ممالک میں سرطان سے اموات کی شرح نہایت کم ہے۔

 بدقسمتی سے ہمارے ملک میں معاشرتی سطح پر میموگرافی پر توجہ دی جاتی ہے اور نہ ہی اس کی سہولیات ہر جگہ موجود ہیں۔ نتیجتاً سالانہ ہزاروں لوگ بالخصوص بڑی تعداد میں خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔ چترال میں جن دو بڑی بیماریوں کی وجہ سے شرحِ اموات تشویش ناک حد تک بڑھی ہے ان میں ایک سرطان (Cancer) جیسا مہلک مرض بھی ہے۔ میرے لیے اس مرض کے پھیلاؤ کا اندازہ لگانا اس لیے مشکل نہیں کہ میرے قریب ترین رشتہ داروں میں ماموں اور خالہ اس کی بھینٹ چڑھ کر ابدی نیند سو چکے ہیں۔ اس مرض میں مریض ایک دفعہ نہیں، کئی دفعہ مرتا ہے۔ سرطان کا متاثر اذیت کی چکی میں پِس کر خود بھی ناقابلِ برداشت تکلیف سہتا ہے اور متعلقین کو بھی رُلاتا رہتا ہے۔ ہمارے ہاں سرطان کے ناقابلِ علاج ہونے کی وجہ تاخیر سے تشخیص ہے۔ ہمیں اُس وقت اس کا احساس ہوتا ہے جب یہ ہمارے بدن میں اپنی گہری جڑیں مضبوط کر کے تیسرے یا چوتھے اسٹیج تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔ اگر اس کے ابتدائی اثرات کی جسم میں پیدائش کے ساتھ ہی اس کی تشخیص ہو سکے تو پھر اس کا علاج ممکن ہی نہیں، آسان بھی ہے۔ اس مرض سے لڑ کر اسے شکست دینے کی واحد صورت یہی ہے کہ ہر دو تین سال بعد معاینہ کروا کر دیکھ لیا جائے آیا کہ سرطان کے اثرات جسم کے کسی حصے میں ولادت پا کر برگ و بار تو نہیں لا رہے؟

یہ دیکھ کر اطمینان کی خوش گوار لہریں جسم میں دوڑنے لگیں کہ امریکہ میں مقیم چترال سے تعلق رکھنے والی ایک فیملی نے کینسر کیئر ہسپتال لاہور کے تعاون سے چترال بھر میں چند روزہ میموگرافی مراکز کا اہتمام کروایا۔ ان معاینہ مراکز میں ساڑھے پانچ سو کے قریب خواتین نے اپنا معاینہ کروایا۔ یہ چترال جیسے پسماندہ علاقے کے باسیوں کی بڑی خدمت بھی ہے اور اپنی ذات میں عظیم عبادت بھی۔ مجھے یہ تو نہیں پتہ کہ محترم روزیمن شاہ اور نگہت اکبر شاہ کا تعلق چترال کے کس علاقے سے ہے لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ دیار ِ غیر میں سکونت رکھتے ہوئے روزیمن شاہ اور نگہت اکبر کا دل اپنی جنم بھومی چترال کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ یہ وہاں جا کر اپنوں کو بھولے ہیں اور نہ ہی اپنے علاقے کے مسائل سے لا تعلق ہیں۔ میموگرافی کی سہولت م ہی نہیں، گردوں کی صفائی کے لیے اہل ِ چترال کو ڈائیلاسز مشین کا تحفہ بھی ان کا ایسا کارنامہ ہے کہ اس پر ان کا شکریہ "شکریے” کا بے محل استعمال ہرگز نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button