اپر چترالکالم نگارمستوج

حاکم اکبر علی خان کی یاد میں

نثار احمد شاہ

 

اُن سے پہلی ملاقات اگست 2018 میں چپاڑی میں ہوئی تھی۔ صوبیدار بابا میری بیگم کے نانا تھے۔ چپاڑی میں قیام کے دوران، چپاڑی اور مضافات کی خوبصورتی، علی باغ کی کشادہ گُرزیں، میر غینز پولوغ اور ڈام چپاڑی میں تاریخی گھر کے علاوہ جس چیز نے متاثر کیا وہ بابا کی نظم و ضبط اور نفاست پسندی تھی۔

28 جون 2021 کی صبح ہم بابا کی مزاج پرسی کرنے نکلے تھے۔ مشیتِ ایزیدی کو کچھ اور منظور تھا۔ وہ اسی روز وفات پاگئے۔ ہمارے پہنچنے تک انہیں سپردِ خاک کردیا گیا تھا۔

حاکم فرمان اکبر خان کا آخری چشم و چراغ، سردار علی خان، نادر اکبر خان اور رحمت اکبر خان کے چھوٹا بھائی، حاکم اکبر علی خان ایک خوبصورت دَور کا نمائندہ تھا؛ ایک شاندار عہد کی نشانی۔ صوبیدار بابا اپنے وسیع کُنبہ اور جُملہ رشتہ داروں کےلیے سایہ دار درخت کی مانند تھے۔ خاندان کا مرکزہ تھے۔ علی باغ میں محبت، نفاست، انسان دوستی اور مہمان نوازی کی علامت تھے۔ خدائے بزرگ و برتر بابا کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہہ دے۔ ان کے ورثاء کو انسان دوستی اور مہمان نوازی کی "لیگیسی” کو جاری رکھنے کی توقیق اور طاقت عطا کرے۔ آمیں

سُنا ہے دن کے آخری پہر حاکم اکبر علی خان اپنا وفادار کتا (چَکست) کو ساتھ لیے علی باغ کی سیر کو نکلتا تھا۔ شام ڈھلے گھروں کو لوٹتے پرندوں کی طرف خوراک دانہ اچھال دیتا، کہ کوئی پرندہ بھوکا نہ سوئے۔ بابا کی زندگی میں ان کا چھوٹا پوتا (شادان) نے کہا تھا کہ بابا کو سب سے عزیز چَکست ہے؛ چکست کے بعد میں (شادان)۔ پوتے سے دادا کی محبت پر بھلا کسے سوال ہے۔ مگر چَکست بابا کو سب سے عزیز تھا، تو کیوں تھا؟ ٹوکیو کے ایک پروفیسر کے کتے (ہاچیکو) کی حقیقی کہانی سے واقف ہوں۔ ہاچیکو شیبویا ٹرین اسٹیشن پر پروفیسر کی کالج سے واپسی کا انتظار کرتا، پھر ساتھ گھر چلتا۔ 1925 میں پروفیسر مرگیا۔ ہاچیکو اگلے نو سال (اپنی موت تک) اسی سٹیشن پر پروفیسر کا انتظار کرتا رہا۔ ایسی وفادار مخلوق سب سے عزیز نہ ہو، تو کیا ہو؟ جب میں نے چَکست کو دیکھا، وہ بابا کی مرقد کے سامنے منہ لٹکائے اوندھے پڑے تھے۔ علی باغ کا ہاچیکو اپنا پروفیسر کھو چکا تھا۔

علی باغ میں شمس الحق قمر، انجینیر نیاز علی رومی، انجینئیر میکی (محسن علی خان) اور چیف میکی (رحمت غازی) سے پہلی بالمشافہ ملاقات ہوئی۔ 2007 میں میگنس مارسیڈن کی کتاب ‘لیونگ اسلام’ کے سرورق پر سفید پھکوڑ میں سرخ گلاب ٹانکے، چہرے پر مسکراہٹ سجائے ایک خوش باش چترالی نے دل کو بھایا تھا۔ پتہ چلا وہ یہی "دیوانوں کی باتیں” لکھنے والا قمر صاحب ہیں۔ ان کی حلیم طبیعت اور پُرخلوص شخصیت نے متاثر کیا۔ ان سے ملکر بہت اچھا لگا۔

موردیر فیملی میں بعض کا خیال ہے کہ شباہت میں نیاز علی رومی کی طرح دِکھتا ہوں۔ جب ہماری ملاقات ہوئی، اتفاق سے ہم دونوں نے ڈارک بلیو سوٹ پہنے تھے- ظاہری مماثلت کا نہیں معلوم، ان کی پروگریسیو خیالات سے اپنائیت اور ہم آہنگی محسوس کی۔ چیف میکی کی سیاست اور شاندار کیرئیر ایک طرف، میرے لیے ان کی شخصیت کا متاثر کن پہلو وہ ہے کہ جب آیون فورٹ کے ایک پروقار محفل کو اپنی "پرٹیسیپشن” سے چار چند لگایا تھا۔۔دُنیا مہ بس۔ فلک مہ بس۔ مہ ژانو نَس! انجینئیر میکی (محسن) سے ملاقات میں ان کی پہلی ٹیلی فونک گفتگو اور خوبصورت انداز میں تعارفی کلمات مجھے یاد تھے۔ شیر ولی خان اسیر صاحب سے اُنیس سال بعد دوسری ملاقات تھی۔ بطورِ طالب العلم اُن سے پہلی ملاقات میرے لیے یادگار دن ثابت ہوا تھا۔ میرے بتانے پر اسیر صاحب نے ماہ و سال کا حساب لگایا، مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔ ہم سب صوبیدار بابا کی موت کا غم بانٹنے آئے تھے۔ ان سب سے ملکر یقیناً خوشی ہوئی۔ مگر دل میں اک کسک سی جاگی کہ کاش یہ غم کا موقع نہ ہوتا؛ بابا کی زندگی میں کسی خوشی کے موقع پر یوں اکھٹا ہوئے ہوتے۔ ہمیں اپنے درمیان پاکر صوبیدار بابا کتنا خوش ہوتے۔ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔

لوٹکوہ کے ایک نوجواں انجینئیر نے علی باغ میں بابا سے ملاقات کا احوال سنایا۔ ان کی زندہ دلی کی تعریف کی۔ چترال ٹاوں کی ایک خاتوں تیرہ سال پہلے بابا کی مہمان نوازی اور پدرانہ شفقت کو یاد کرکے افسردہ تھی، اور فوں پہ تعزیت کررہی تھی۔ یہ بات نانی نے بتائی۔ میرے سامنے کرسی پر بیٹھا ایک بوڑھا شخص با آواز بلند رو رہا تھا۔ بظاہر کسی نے نوٹس نہ لیا۔ ہچکیاں بھرتے ہوئے آپنے آنسو خود ہی پونچھ کر رخصت ہوا۔ جانے کون تھا وہ شخص؟

ایک متعبر شخص نے 2001 کے بلدیاتی انتخابات میں بطور امیدوار بابا کے منفرد اپروچ کا بتایا۔ صوبیدار بابا اشتہار چھاپ کر عوام تک اپنا پیغام پہنچایا، گھر گھر جاکر ووٹ ڈالنے کی تاکید نہیں کی۔ ان کا کہنا تھا جو مجھے اپنے قیمتی ووٹ کے قابل سمجھتے ہیں، ان پر زور ڈالنے کی ضرورت نہیں۔ جو ووٹ کے حقدار نہیں سمجھتے ان کو کہنے کی ضرورت نہیں۔ یہ ان کی خودراری کہیں، یا پھر عوام کی سیاسی سوجھ بوجھ پر اعتماد۔۔۔رزلٹ آنے پر صوبیدار بابا بھاری اکثریت سے جیت چکا تھا۔

مجھے بتایا گیا کہ شمسیار میکی المعروف بابو لال صوبیدار بابا کے عزیز تریں رفقاء میں سے ایک ہیں۔ شمسیار میکی صوبیدار بابا کے ذاتی کمرے کے دروازے سے اندر جھانک کر پُرنم واپس ہوئے۔ یہ بات بابو لال سے بہتر اور کوں سمجھ سکتا ہے کہ مکاں کی رونق مکیں سے ہے۔ اُن کا ہمدمِ دیرینہ مکان چھوڑ کر علی باغ کے کونے میں ابدی نیند سوچکا تھا۔

ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسدؔ

مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button