کالم نگارگلگت بلتستان

انمول تحفہ

شکور خان ایڈوٹ

انمول تحفہ

 

وہ گھر سے نکلا، سڑک کنارے ڈسٹ بِن کی جانب چل پڑا اس کے ہاتھ میں شاپر تھا۔ ڈسٹ بِن پہلے ہی کثافت سے بھرا تھا اس نے شاپر ڈسٹ بِن پر الٹ دیا تو دیگر چیزوں کے ساتھ ایک خوبصورت بوتل، ایک پرانا گلدار دسترخوان لڑھک کے نیچے جا گرا۔

وہ کچرہ پھینک کر چلا گیا اسے دیکھ کر میری سوچ ماضی کی طرف سفر کرتی 70 کی دھائی میں پہنچ گئی۔ ہمارے ہاں ان دنوں دسترخوان کا رواج نہیں ہوا تھا ہمارے بزرگ ننگی فرش پر برتن رکھ کے کھانا کھاتے تھے۔ دستر خوان کا استعمال ستر کی دھائی کے آخیر میں شروع ہوا۔ 1960 کے بعد اِکا دُکا دکاندار مسالہ جات سے بھرے شیشے کی بوتلیں لانے لگے۔

فرض کریں اگر میں سامنے ڈشٹ بن سے پرانا دستر خوان اور شیشے کی بوتل اٹھاتا جو ابھی ابھی کوئی پھینک گیا ہے، انہیں دھو کر خشک کرتا، اسی لمحے انہیں خورجیں میں ڈال کر ماضی کی جانب پرواز کرتا، انیسویں صدی پہنچ کر کسی بادشاہ کے حضور حاضر ہوتا، بوتل اور دستر خوان بطور تحفہ پیش کرتا تو بادشاہ اور درباریوں کا ردعمل کیا ہوتا۔

بادشاہ یقیناً دونوں تحائف الٹ پلٹ کر دیکھے گا چہرے پر حیرت اور خوشی کی ملی جلی کیفیت طاری ہوگی۔ اگر پوچھے کہ ایسی انمول چیزیں پہلے کبھی نہیں دیکھی گئیں کہاں سے لائے ہو؟ تو جھوٹ موٹ کہانی سنا کر انہیں مطمئن کر لوں گا۔ اگر استعمال جاننا چاہے تو انہیں بتاوں گا کہ یہ دسترخوان ایک ایسے آئٹم سے بنا ہے جو دنیا میں کہیں نہیں پایا جاتا۔ اسے پلاسٹک کہتے ہیں، ملکوں کے بادشاہ آپ کے ہاں مہمان آئیں تو اس دسترخوان پر ان کے لیے شاہی کھانے چن دیئے جائے، دوسری چمکدار چیز اندر سے کھوکھلی ہے، اس کا نام بوتل ہے۔ شہد، قیمتی خوشبو یا خاص تیل اس میں رکھ سکتے ہو، اس کا کمال یہ ہے کہ جو چیز اندر رکھو گے باہر سے نظر آئے گی۔

بادشاہ سلامت پوچھیں گے: اے اجنبی، مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ بولوں گا: بادشاہ سلامت، باپ دادوں کی زمینیں وراثت میں ملی تھیں سب بیچ کے کھا گیا، سر چھپانے کے لیے کچھ نہیں بچا۔ مابدولت چھوٹی سی جاگیر عنایت فرمائیں بندہ پرور تا عمر دعا گو رہے گا۔

سنتے ہی بادشاہ سلامت بولیں گے: سنو وزیر سلامت علی، اجنبی ہمارے حضور بیش قیمت تحائف لایا ہے جو روئے زمین پر کہیں نہیں پائے جاتے، ہم ان کے مشکور ہیں۔ چاہ بریں کی جاگیر سے آٹھ مربع نہری، کوہ دامن سے 20 مربع بارانی زمین انہیں عنایت کی جائے۔ پانچ مزارعیں بھی دیئے جائیں۔ ہاں۔۔۔ ممتاز بیگم والا محل بمہ دو خواجہ سرا ان کے نام کر دیا جائے۔ تین باندیاں ان کی خدمت میں پیش کی جائے، ہاں سلامت علی، کنیزیں ڈھلتی عمر والی نہ ہوں، نو خیز چھوریاں دی جائے۔ زر جواہر و اشرفیوں سے تھیلے بھر کر نوازا جائے، شاہی اصطیل سے دو راس گھوڑے زین چڑھا کر ان کی خدمت میں پیش کیےجائے۔

اچانک کتا بھونکا تو خیالات کا تسلسل ٹوٹ گیا، سامنے گداگر کچرہ کنڈی سے کاٹھ کباڑ چُن رہا تھا اس نے دستر خوان اور بوتل اٹھا کر تھیلے میں ڈال دیا، آوارہ کتا گداگر کی طرف دیکھ کے غرا رہا تھا، مجھے لگا میرے خوابوں کا محل بدبخت گداگر لوٹ کے لے جا رہا ہے، اُدھر کتے کا بھی کوئی خواب ٹوٹ رہا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button