اپر چترالتورکھوخبریںموڑکھو

ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد علی اور ایم پی اے چترال ہدایت الرحمن کا دورہ استارو پل، کام کی سست روی پر شدید برہمی کا اظہار۔

ذاکر زخمی

بیورو چیف چمرکھن اپر چترال

 

  تین یوسیز کو دوسرے علاقوں سے ملانے ولی واحد ذریعہ استارو پُل عرصہ دراز سے علاقے کے لوگوں کے لیے درد سر بنا ہوا ہے۔ پُل تیار ہونے کا نام نہیں لیتا۔جلسے ہوتے ہیں احتجاج کیا جاتا تسلیاں دی جاتی ہیں وعدے ہوتے پر عملی طور پر کچھ نہیں ہوتا اور علاقے کے عوام اس پُل کی وجہ سے نفسیاتی طور پر مریض بن گئے ہیں۔گزشتہ سال اپریل2021؁ کو یہ پُل اپنے حیثیت سے زیادہ بوجھ برداشت نہ کرتے ہوئے ٹوٹ کرڈمپر سمیت سینکڑوں فٹ کھائی میں جا گری اور ایک قیمتی جان کا بھی نقصان ہوا۔ متبادل کے طور پر ر پلِ صراط نما ریا ستی روڈ کو آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا جو ہر وقت خطرے کی علامت کے طور پر موجود ہے۔منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کیے جاتے ہیں عوام تورکھو اور تریچ کے عوام مجبور ہوکر گزاشتہ دسمبر2020؁ کو شدید سردی اور برف باری کے باوجود اٹھارہ دن دھرنے دئیے۔ انجامِ کار استارو کے مقام پرکمانڈنٹ چترال سکاوٹ،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اپر چترال، اسسٹنٹ کمشنر اپر چترال، معاونِ خصوصی وزیر اعلیٰ وزیر زادہ،ایم۔پی۔اے مولانا ہدایت الرحمن، ڈی۔پی۔او اپر چترال، ایکسین محکمہ تعمیرات اپر چترال کی موجودگی میں عوام سے اس وعدے کے ساتھ دھرنے کو ختم کرایا گیا تھا کہ جون 2021؁ تک استارو پُل مکمل کرکے ہر حال میں ٹریفیک کے لیے کھول دیا جائیگا۔

لیکن اب اگست بھی آخر ہونے کو ہے۔وعدہ ایفا ہونے کی کوئی اثار دیکھائی نہیں دی۔ تو علاقے کے عوام ایک بار پھیر خود کو یکجا کرکے احتجاجی تحریک چلانے کا فیصلہ کر لیا اور 15 اگست کو ورکپ کے مقام پر احتجاجی جلسہ کرنے اور تسلسل کے ساتھ تحریک چلانے کا اعلان کیا۔حالات کی سنگینی اور نزاکت کے پیش نظر آج ڈپٹی کمشنر اپر چترال جناب محمدعلی صاحب اور ایم پی اے چترال جنا ب ہدایت الرحمن صاحب حالات کا بذاتِ خود جائزہ لینے اور مناسب کاروائی کرنے کے عرض استارو پُل کا دورہ کیا۔جہاں تورکھو روڈ ایکشن کمیٹی کا ارکان عبدالقیوم بیگ، سفیر اللہ، صوبیدار جلال الدین اور تحریکِ انصاف کے راہنما چہار شنبہ خان پہلے سے موجود تھے۔

ایس ڈی او سی اینڈ ڈبلیو عدنان،پروجیکٹ منجیر اور پُل کے ٹھیکدار بھی موقع پر موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد علی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے ایکشن کمیٹی کے ممبران، ایس ڈی او سی اینڈ ڈبلیو،پراجیکٹ منیجر اور پُل کے ٹھیکدار کی موقف سننے کے بعد شدید برہمی کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ حالات کا جائزہ لینے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ علاقے کے لوگ کتنے مشکلات سے دوچار ہیں۔ اس میں انہیں نہ صرف امد و رفت کا مسلہ درپیش ہے بلکہ ہسپتال تک رسائی، سکول تک بچوں کو پہنچنا کتنا مشکل ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام کواس طرح تکلیف سے گزارنا ان کے لیے نا قابلِ برداشت ہے۔انہوں نے موقع پر سی ایند ڈبلیو اور ٹھیکدار کو سختی سے ہدایت دی کہ وہ ہر حال12 دنوں کے اندر پل لانچینگ کے کام کو عملی طور پر شروع کریں بصورتِ دیگر ان کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لایا جائیگا۔  ایس ڈی او سی اینڈ ڈبلیو اور پراجیکٹ منیجر نے اس موقع پرڈپٹی کمشنر اپر چترال کے حکم کو ہر حال میں تعمیل کرنے کا وعدہ کیا اور بارہ دنوں کے اندر ضروری ساماں پہنچاکر کام شروع کرنے کی یقین دہانی کی۔


یاد رہے کہ ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد علی اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد عوامی مسائل حل کرنے میں گہری دلچسپی لے رہیں۔ جسے علاقے کے لوگ بھی بخوبی محسوس کر رہے ہیں۔شاید یہ پہلا ڈپٹی کمشنر ہے۔

جو کسی عوامی مسلے کی حساسیت کو محسوس کرتے ہوئے پہلی فرصت میں موقع پر پہنچ کر مسلہ حل کرنے کی طرف توجہ دی جو احسن اقدام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button