اپر چترالکالم نگارلوئیر چترال

چترال کی سطح پر ایک تھنک ٹینک کی اشد ضرورت ہے۔

ظہور الحق دانش

 

مذہب و قومیت کا نام استعمال کرکے غریب اور سادہ لوگوں کے مذہبی و قومی جذبات کا استحصال کرکے ووٹ لینا آسان ہے۔ مگر ووٹ جیسی عظیم قومی امانت کا حق ادا کرکے لوگوں اور علاقے کی خدمت کرنا مشکل ہے۔
اللہ ہماری دوغلی اور نکمی سیاسی قیادت کا دنیا و آخرت میں پوچھے۔
بہت ہو گیا کٹھ پتلیوں کا رقص۔ اب بس۔
آئیے یہ گلے شکوے سب چھوڑتے ہیں۔
حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ ایماندار انسان ایک بِل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔
ہمیں ایک نہیں، دو نہیں، کئی بار اس سیاسی بِل میں ڈسا گیا۔ پھر بھی ہم میں شعور اور احساس پیدا نہیں ہو سکا۔
آئیے اب کچھ سوچتے ہیں، عوامی بہبود کی خاطر کچھ ذمہ داری اور حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
آئیے چترال کی سطح پر سمجھدار، دیانتدار اور قوم کے لیے درد رکھنے والے لوگوں پر مشتمل ایک ضلعی تھِنک ٹینک ترتیب دیتے ہیں۔
ایک ذمہ دار تھنک ٹینک بنا کے عوام کو درست سیاسی و سماجی شعور دینے اور دیانتدار سیاسی لیڈرز آگے لانے کی اشد ضرورت ہے۔ ورنہ انتہائی تیز رفتاری سے چترال ذہنی و جسمانی طور پر پتھروں اور غاروں کے دور کی طرف رواں دواں ہے۔ اب نہیں تو کب؟ ہم نہیں تو کون؟
سمجھدار اور ذمہ دار لوگوں کے مشورے اور رہنمائی سر آنکھوں پر۔ ہم ہر طرح کی خدمت اور قربانی کے لیے تیار ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button