کالم نگار

غریب دوکانداروں کے بچوں کو عید کی خوشیوں سے محروم نہ رکھا جائے۔

جنرل سیکرٹری بازار بونی اپر چترال۔ ذاکر محمد زخمی

محمد ذاکر زخمی

جنرل سیکرٹری بازار بونی اپر چترال۔

 

  جب سے کرونا وائریس ملکِ خداد داد میں پھیل چکا ہے گزاشتہ مارچ2020؁ء سے آج تک غریب تاجر جس مصیبت و کرب میں مبتلا ہے یہ شاید تاجر ہی جانتے ہیں۔کرونا کا جتنا نزلہ تھا وہ سب کے سب تاجروں کو مخصوص کرکے ان پر گرایا گیا۔کبھی ایس او پیز کا شوشہ تو کبھی لاک ڈاون اور کبھی کرونا ٹیسٹ یہ سب تاجروں پر ازمائے گئے۔ تاجروں کے علاو بہت سے لوگ اس سے مستثنی ہیں۔ سیاسی پارٹیاں ہو دوسرے جلسے جلوس ہو یا من چاہے اجتماعات سب آذاد ہیں۔ایک دوکاندار ہے جو اس پر یہ سب لازم ہوتے ہیں گویا دوکاندار کہیں اور قسم کے محلو ق ہیں وہ انسان نہیں ان کے ضروریات نہیں ان کے مجبوریاں نہیں ان کے بچوں کو بھوک نہیں لگتی اور وہ کپڑے نہیں پہن لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت دوکاندار حضرات اپنے بچوں کو ایک وقت کی روٹی کھلانے کے حق سے محروم ہوگئے ہیں۔ خصوصاً چھوٹے بازار کے چھوٹے دوکاندار تو ذہنی اور نفسیاتی طور پر متا ثر ہوچکے ہیں۔ ساتھ حکومتِ وقت کے طرف سے ائیے روز نت نئے سختیاں متعارف کرائے جاتے ہیں۔جو دوکانداروں کے جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام دیتی ہے۔ رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے۔ اس میں ہونا یہ چاہیے کہ غریبوں کے ساتھ تعاون اور امداد کرکے ان سے دعائیں سمیٹے جاتے لیکن یہاں سب کچھ الٹا چل رہا ہے۔غریب دوکانداروں کو ہزار بہانوں کے ساتھ تنگ اور نفسیاتی طور پر ناکارہ بنا دیا جاتا ہے۔انہیں حلال کاروبار کرکے حلال روزی کمانے کے حق سے یکسر محروم رکھا گیا ہے۔جو کہ انسانی حقوق کے بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔رمضان کے بابرکت مہینے کے آخری عشرہ میں عجیب صورت حال بازار میں دیکھنے کو ملتا ہے۔جب کوئی دوکاندار کی نظرین پولیس فورس پر پڑتی ہے تواتنا خوف میں مبتلا ہوتا ہے گویا یہ رزق کمانے نہیں بلکہ دہشت گردی اور منشیات فروشی میں ملوث ہے اور اس لیے بازار میں بیٹھا ہے۔ یاد رہے بونی میں تاجر ہر وقت یا خوف یا قانون کے احترام میں اپنا سب کچھ قربان کر چکا ہے۔لیکن حکومت بذاریعہ انتظامیہ اور پولیس تاجروں پر اتنا خوف طاری کر چکا ہے کہ وہ بے بس اور لاچار نظر اتے ہیں۔ خوف ہے کہ کہیں اس مجبوری اور بے بسی کے عالم میں کوئی خود کشی تک نہ پہنچ جائے۔کیونکہ انسان جب بے بس اور مجبور ہوتا ہے تو اس کے پاس صرف یہ راستہ بچتا ہے۔کہ خود کو اس مصیبت سے آذاد کریں کیونکہ عید کے خوشیاں قریب ہو گھر میں بال بچے امید لگائے بیٹھے ہو اور دوکاندار کے پاس انہیں خوشیاں دینے کے لیے کچھ نہ ہو تو اپنے بالا بچوں کے خالی منہ دیکھانے اور ان کے سامنے انے کے حمت ہار بیٹھتا ہے۔حکومت وقت اپنے زمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہو چکا ہے اور اس ناکامی کو دوکانداروں کو ہراسان کرکے چھپایا نہیں جا سکتا۔ہونا یہ چاہیے تھا کہ حکومت لاک ڈاوں بے شک کریں۔ لیکن جو نقصان وہ اٹھا رہے ہیں اس کا بھی سوچا جاتا۔مالک مکان کو کرایہ دینا ہوتا اسے بھی احساس پروگرام میں شامل کیا جاتا اور دوسرے حقداروں کے طرح انہیں بھی کوئی پیکیج دی جاتی تاکہ وہ بھی معاشرے میں زندہ رہنے کا حقیقی حق پاتے۔یہاں ضلعی انتظامیہ اور پو لیس فورس کو بھی قصور وار ٹھرایا نہیں جاتا کیونکہ اوپر سے جو دباو اور پریشر ان پر ڈالا جاتا ہے وہ با امرِ مجبوری باہر نکل کر بالائی حکام کی حکم کو تعمیل کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ مجبوریاں سب جانتے ہیں۔ آخر میں صوبائی حکومت سے درمندانہ اپیل ہے کہ علاقہ اپر چترال کے جعرافیائی مجبوریوں اور دوکاندروں کے خیستہ حالی کو مد نظر رکھتے ہوئے عید تک

 اس پابند سے چھوٹ دی جائے۔اور دوکاندار مکمل ایس او پیز کے پابندی کے ساتھ کاروبار کرکے اپنے بچوں کو عید کی خوشیوں میں شریک کر سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button