کالم نگار

ایک گمنام مدرسے کی صوبائی سطح پر پوزیشن۔

نثار احمد

ترش و شیرین

 

تین دن قبل وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے بنین و بنات کے سالانہ امتحانات کے نتائج کا اعلان کر دیا۔ وفاق المدارس کے اعلامیے کے مطابق امسال درجہ کتب کے تین لاکھ بتیس ہزار دو سو ساٹھ (3,32٫260) طلبا و طالبات اور ستر ہزار سات سو بیاسی (70٫782) درجہ ء حفظ کے طلبا و طالبات نے وفاق المدارس کے تحت منعقدہ امتحانات میں حصہ لیا جن میں سے درجہ کتب میں دو لاکھ اسی ہزار پانچ سو انتّر جب کہ درجہ حفظ میں اڑسٹھ ہزار ایک سو ایک کامیاب ہو گئے۔ یوں کامیابی کا تناسب چھیاسی فی صد رہا۔ امتحانات میں شریک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ سارے طلبا مدارس میں باقاعدہ طور پر طالب علم تھے کیونکہ پرائیوٹ امتحانات کا تصوّر دینی مدارس میں سِرے سے پایا ہی نہیں جاتا۔

وفاق المدارس العربیہ پاکستان وفاق ہائے مدارس میں سب سے بڑی وفاق اور تعلیمی نیٹ ورک ہے۔ دیوبندی مدارس کی یہ نمائندہ تنظیم مدارس کو رجسٹرڈ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے لیے نصاب ہی تجویز نہیں کرتی ہے بلکہ امتحانات لے کر اسناد بھی جاری کرتی ہے۔ دیوبندی مشرب سے تعلق رکھنے والے ملک بھر کے کم و بیش بیس ہزار مدارس اس وفاق سے منسلک ہیں۔ پاکستان میں سب سے زیادہ حفاظ تیار کرنے کا اعزاز بھی اسی وفاق المدارس کو حاصل ہے۔ صرف اس سال کم و بیش ستر ہزار حفاظ نے وفاق کے تحت حفظ کا امتحان دیا۔ وفاق المدارس کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے پیپرز پورے ملک میں ایک ساتھ شروع ہوتے ہیں۔ اِدھر آٹھ بجنے میں چند منٹس رہتے ہیں ادھر کراچی سے لے کر گلگت تک شہر و دیہات کے مدارس میں ایک ساتھ سوالیہ پیپرز کے سربمہر لفافے طلبا کے سامنے کُُھلتے ہیں۔ یہ امتحانات اتنے منظم طریقے سے شفاف انداز میں ہوتے ہیں کہ نقل کا شائبہ تک نہیں کیا جا سکتا۔ اسی کامیاب نظم و ضبط اور امتحانات میں شفّافیت ہی کی ایک جھلک ہے کہ امسال درجہ عالمیہ کا پرچہ آوٹ ہو گیا۔ رات پرچہ آوٹ ہونے کی خبر وفاق کے زمہ داروں کو پہنچی اور جب اگلے دن طلبا امتحان ہال میں تھے تو یہ دیکھ کر ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ چھ سوالات میں سے ایک سوال بھی آوٹ شُدہ پیپر کا نہیں ہے۔ مطلب وفاق المدارس نے راتوں رات نہ صرف سوالنامہ ازسرنو تیار کرنے کا انتظام کیا بلکہ اُسے شفاف انداز میں تمام امتحانی ہالوں میں پہنچانے کا اہتمام بھی کیا۔   

امسال کے وفاق المدارس کی طرف سے جاری شُدہ نتائج کے مطابق صوبائی سطح کی پوزیشن چترال کے ایک گمنام مدرسے کے حصّے میں بھی آئی ہے۔ اس مدرسے کی طالبہ مدیحہ قاضی بنت شیخ الاسلام نے چھ سو میں سے پانچ سو ستاون نمبر لے کر صوبائی سطح پر دوسری پوزیشن کا سہرا اپنے سر سجانے میں کامیابی حاصل کی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ چترال سے بنات کے کسی مدرسے نے صوبائی سطح پر پوزیشن حاصل کی ہے۔ ایون ارکھاڑ میں واقع اس گمنام مدرسے کا نام اقراء جامعۃ البنات ہے۔ اس کا مہتمم مولانا شیخ الاسلام ایک سکول ٹیچر ہے۔ گورنمنٹ ہائی سکول بمبوریت میں اسلامیات کا سینئر استاد ہونے کے ناتے مولانا شیخ الاسلام بمبوریت اور ایون کے درمیان پنڈولیم بنے ہوتے ہیں۔ سکول سے فارغ ہونے کے بعد بمبوریت روڈ پر بائیک میں اچھلتے جھولتے تھکے ماندے جب گھر پہنچتے ہیں تو کھانا کھا کر قیلولہ کرنے کے بجائے سیدھا مدرسے میں داخل ہوتے ہیں اور اپنے حصے کے اسباق پڑھانا شروع کرتے ہیں۔ 

شیخ الاسلام کا شمار ان مہتمموں میں ہوتا ہے جو نہ صرف مدرسے سے بقدرِ ضرورت بنامِ مشاہرہ تنخواہ لینے سے گریز کرتے ہیں بلکہ کبھی کبھار اپنی تنخواہ میں سے بھی خاطر خواہ حصّہ مدرسے میں لگاتے ہیں۔ شیخ صاحب اس مدرسے کے مہتمم ہی نہیں، مدرّس بھی ہیں۔ موصوف اہتمام کی ایک پائی لیتے ہیں اور نہ ہی تدریس کا ایک آنہ۔ اس بابت میرے استفسار پر شیخ صاحب نے مسکراتے ہوئے نے کہا کہ میری اہلیہ بھی محض اللہ کی رضا کے لیے تنخواہ کے بغیر مدرسے میں پڑھاتی ہے۔

 جامعہ اقرا جامعۃ البنات ایون اور مضافات کی بچیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے میں اپنے حصّے کا چراغ جلا رہا ہے۔ اس وقت مدرسے میں مقامی طالبات کے علاوہ معدودے رہائشی طالبات بھی زیرِ تعلیم ہیں۔ رہائشی طالبات اگرچہ تھوڑی بہت فیس بھی جمع کرتی ہیں تاہم ان کے طعام و قیام کے اخراجات ان کی کنٹریبیوشن سے کئی گنا بڑھ کر ہیں۔ اور ان اخراجات کو اہل ِ خیر کے تعاون سے پورا کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔

بنات کا مدرسہ قائم کرنا آسان نہیں ہوتا۔ یہاں تھوڑی سی بے احتیاطی اور غفلت گوں نا گوں مسائل کی داعی و باعث بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شروع میں بعض بزرگ بچیوں کے رہائشی مدارس کے سخت خلاف تھے تاہم بعد ازاں علما نے کڑی شرائط کے ساتھ ایسے مدارس کے قیام کی اجازت دی۔

تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ معاشرے کی تبدیلی اور صالح معاشرے کے قیام میں جتنا کردار خواتین کا ہوتا ہے اتنا مردوں کا نہیں ہوتا۔ بچوں کی پہلی درس گاہ ہی ماں کی گود ہوتی ہے۔ بچہ روایتی دانش کدوں سے اتنا کچھ نہیں سیکھتا جتنا ماں کی گود میں سیکھتا ہے۔ یہ ماں ہی ہوتی ہے جس کی بہترین تربیت کی بدولت بڑی بڑی شخصیات اُمت کو ملتی ہیں۔ ماں جتنی متدیّن، صالحہ، مہذّب، سلیقہ مند، باوقار ہو گی بچے کی شخصیت بھی اسی حساب سے پروان چڑھے گی۔

جب نیچے کے کسی ضلعے سے آیا ہوا مدرسے کا کوئی سفیر مائک پکڑ کر مدرسے کے لیے چندہ مانگنے مسجد میں کھڑا ہوتا ہے تو میں یہی سوچتا ہوں کہ اِنہیں دینا بھی اگرچہ ثواب کا کام ہے، اور دینا بھی چاہیے۔ لیکن خود یہاں کے علاقائی قریبی مدراس اُن سے زیادہ مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اڑوس پڑوس کے مدارس کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button