کالم نگار

مطالعے کی اہمیت اور کتاب بینی کا فروغ

احتشام الرحمٰن

مطالعے کی اہمیت اور کتاب بینی کا فروغ

پوری دنیا میں 23 اپریل کو کتاب بینی کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ کتاب اور مطالعے کی اہمیت ہر زمانے، ہر معاشرے، ہر مذہب اور ہر تمدن میں رہی ہے۔ جن اقوام نے کتاب کو اپنایا وہ کامیاب ہوئیں، چاہے ان کی معاشی یا عسکری طاقت کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو۔ اس کے برعکس جو قومیں معاشی اور عسکری طور پر ناقابل شکست سمجھی جاتی تھیں، وہ اگر تباہ ہوئیں تو اس کی ایک وجہ علم اور کتاب سے دوری سمجھی جاتی ہے۔

کتاب، کتاب بینی اور آج کے دن کی مناسبت سے کچھ بکھرے خیالات ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔

ایک پروگرام میں قاضی حسین احمد صاحب نے بتایا تھا کہ ہر قوم کی ترقی کا راز کتابوں سے محبت ہی ہے۔ انہوں نے جاپان کی مثال دی اور کہا کہ ایک بار جاپان کے ایک سٹیشن کے انڈر پاس میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں جا کر دیکھا تو وہاں ہمارے یہاں کے اتوار بازاروں کی طرح کتابوں کا شہر آباد تھا۔ یہ کئی کلومیٹر میں پھیلا ہوا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بعد میں انہیں پتہ چلا کہ جاپان میں ایسے اور بھی کئی شہر ہر ایک بستی میں بسے ہوئے ہیں۔

میرے محسن میرے بڑے بھائی عطاء الرحمان امریکیوں کی کتب بینی سے محبت کا حوالہ دے کر بتاتے ہیں کہ جب وہ پہلی بار ٹرین کے ذریعے سے سفر کر کے یونیورسٹی جا رہے تھے تو پاس بیٹھی ایک خاتون اسے بغیر کچھ پڑھتے دیکھ کر قدرے حیران ہوئی اور آخر کار اس سے پوچھا کہ ”وہ کیوں بیکار بیٹھا ہے“ ۔ اس نے بتایا کہ ”میرے پاس پڑھنے کے لئے کچھ نہیں ہے ، اس لئے ویسے ہی بیٹھا ہوں تو اس خاتون نے اپنے پرس سے ایک میگزین نکال کر اسے تھما دیا کہ“یہ پڑھ لو”۔

میری چھوٹی بہن مجرہا اسی طرح کے واقعات بتاتی ہیں۔ اس نے ایک بات کا اضافہ کیا کہ اب لوگ ٹیکنالوجی کی وجہ سے اپنے موبائل پر ای بکس پڑھتے ہیں یا ریکارڈیڈ بکس سنتے ہیں۔ یعنی ٹیکنالوجی کو بھی مثبت انداز میں استعمال کرتے ہیں۔

ہالی ووڈ فلمیں دیکھتے ہوئے ایک بات جو میرے مشاہدے میں آئی ہے وہ یہ کہ اس فلم کے اندر ہر ایک کردار کے گھر، اپارٹمنٹ یا کمرے میں آپ کو کتابوں کا ایک شیلف ضرور نظر آئے گا۔ چاہے وہ کردار ایک کال گرل کا ہی کیوں نہ ہو لیکن کتابوں کی الماری اس کے اپارٹمنٹ میں ضرور دکھائی دے گی۔

اسی سے ملی جلی بات میرے محسن پروفیسر ڈاکٹر صبغت اللہ خان نے ہمیں بتائی تھی کہ جب وہ امریکہ میں پی ایچ ڈی کے لئے گئے تو ان کے لینڈ لارڈ، جو کہ ایک عام آدمی تھے، کے گھر میں ایک لائبریری تھی۔ اس نے بتایا کہ اس میں انگریزی ادب سے متعلق دو تین ایسی شاہکار کتابیں موجود تھیں جو یہاں پاکستان کی لائبریریوں میں بھی نہیں ملتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنا مقالہ لکھتے ہوئے بھی ان کتابوں سے استفادہ حاصل کیا تھا۔

اس کے برعکس ہمارے یہاں کتاب بینی اور کتاب خریدنے کا کوئی رواج ہی نہیں۔ ماں باپ بیٹے کے لئے شوق سے بیٹ، بال یا گٹار اور بیٹی کے لئے گڑیا یا میچنگ ڈریس خریدیں گے۔ اسے اچھے ہوٹل لے جائیں گے لیکن مجال ہے کہ اسے ایک بار کسی کتاب گھر یا لائبریری لے کر جائیں۔ نہ گھر میں وہ ماحول دیتے ہیں کہ لاؤنج میں ایک الماری ہو جس میں کتابیں ہوں۔ یا ماں باپ میں سے کوئی کتاب اٹھا کر پڑھ رہا ہو۔ ایسا ماحول تو دور کی بات، 95 فیصد لوگوں کے ذہنوں میں یہ تصور اور خیال بھی نہیں ہوتا ہو گا۔

ماحول خود سے بنتا نہیں ہے ، ماحول بنانا پڑتا ہے۔ بچے بڑوں کو دیکھ کر ان کو کاپی کرتے ہیں۔ اگر ہر گھر میں مہینے میں ایک کتاب آ جائے تو سال میں 12 کتب ہو جائیں گی اور کتابوں کے ماحول کا احساس ہونے لگے گا۔ کوئی نہ کوئی کتاب اٹھا کر پڑھے گا۔ یہ ماحول تبھی بنے گا جب ہم ایک کلو کڑاھی کے مقابلے میں ایک کتاب کو اہمیت دیں۔ اپنی اولاد کو سمجھائیں کہ ایک کتاب ہمیشہ رہے گی۔ کئی نسلیں اس سے استفادہ حاصل کریں گی جبکہ ایک کلو مٹن کڑاھی کا، بقول ڈاکٹر سیدہ زہرہ صاحبہ، چوبیس گھنٹے بعد پتہ بھی نہیں چلے گا۔

اس سلسلے میں آخری لیکن سب سے اہم گزارش اساتذہ اور پروفیسر صاحبان سے یہ ہے کہ وہ اپنے طالب علموں کو لکیر کا فقیر نہ بنائیں۔ ان کو کتب کے بارے میں بتائیں۔ مطالعے کی اہمیت کو اجاگر کریں۔ کورس کے علاوہ کتابیں پڑھنے کی خوب ترغیب دیں۔ یہ کام پرائمری اسکول سے ہی شروع ہونا چاہیے۔ اسی صورت میں ہی یہ بچے آگے جا کر رٹا لگانے کے بجائے مختلف موضوعات پر بات کرنے اور اپنے اذہان کو کھولنے کی صلاحیت پیدا کر سکیں گے۔ بصورت دیگر ہم ”نیوٹن بابا کو شرعی پردہ کرانے“ کی ہی ترغیب دیتے رہیں گے اور مغرب ہم پر حکمرانی کرتا رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button