کاروباری دنیالٹکوہ

وادی لوٹ کوہ میں آلو کی کاشت، دہقان کی روزی اور محکمہ زراعت (چترال) کا کردار۔

نثار احمد شاہ

 

4 اکتوبر 2020 کو خیبر پختونخوا سٹیزن پورٹل میں شکایت درج کرایا۔ شکایت میں لکھا تھا کہ ضلع چترال میں وادیٔ لوٹکوہ آلو، ٹماٹر اور مٹر کی کاشت کے حوالے سے مشہور ہے۔ پچھلے بیس سالوں سے مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ان فصلوں کی پیداوری رقبہ، حجم، تجارت اور آمدن کو وسعت دی ہیں۔ اس بابت سرکار نے کیا کردار کیا، کے حوالے سے نہایت بنیادی معلومات درکار ہیں۔ مثلاً

۱۔ 2020 میں لوٹکوہ میں آلو، ٹماٹر اور مٹر کی کل پیداور،اور حاصل شدہ آمدنی کی تفصیلات۔

۲۔ وادی لوٹکوہ میں آلو کے بیرونی تاجر اور مقامی ٹھیکہ دار اور ایجنٹس کی معلومات (تفصیلات)۔
۳۔ ڈی سی آفس (لوئیر چترال) میں ان اسسٹنٹ کمشنر اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنرز کا نام پتہ جو وادیٔ لوٹکوہ کے امور دیکھتے ہیں۔

۴۔ ضلع چترال (اَپر اینڈ لوئیر) میں زراعت کے معاملات کون دیکھتا ہے؟ ضلع میں کسان و دہقان کے مفادات کا محافظ کوں ہے، اس بارے میں معلومات۔

میری شکایت پہلے سیکرٹری (ایگریکلچر، لائیو اسٹاک، کوپریٹیو)؛ پھر ڈائریکٹر جنرل خیبر پختونخوا، پشاور آفس سے ہوتے ہوئے 7 اکتوبر 2020 کو ڈسٹرکٹ آفیسر (ڈی او) اگریکلچر، چترال کو "اسائن” ہوا۔ ڈائریکٹر جنرل کے آفس نے لکھا تھا، "پلیز ریڈریس”۔ مطلب شکایت کا ازالہ کریں۔

12 اکتوبر 2020 کی ایک خزان زادہ دوپہر ڈی او ایگریکلچر، چترال آفس سے جواب موصول ہوا۔ سوال نمبر 1 کے جواب میں لکھا تھا کہ 2020 میں لوٹکوہ میں آلو کی بوائی اور پیداور سے متعلق ڈیٹا دستیاب ہے (جس میں حاصل شدہ آمدنی کا کوئی حساب نہیں تھا)۔

سوال نمبر 2 اور سوال نمبر 3 کو یکسر نظر انداز کیا گیا تھا۔

سوال نمبر 4 کے جواب میں جو کچھ لکھا تھا، نیچے درج ہے-
"ضلع کی سطح پر ڈسٹرکٹ اڈمنیسٹریشن کی سرپرستی میں، محکمۂ زراعت کے درج ذیل ڈیپارٹمنٹس اور آفیسران زراعتی امور، اور کسان و دہقان کے مفادِ عامہ کے معاملات دیکھتے ہیں۔

الف۔ ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر، ایگریکلچر (ایکسٹنشن)۔
ب۔ ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر ایگریکلچر، ریسرچ۔
ج۔ ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر ایگریکلچر، انجنیرنگ۔
د۔ ڈسٹرکٹ آفیسر واٹر مینجمنٹ۔
ھ۔ ڈسٹرکٹ آفیسر، سوئل کنزرویشن۔
و۔ ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر، لائیو اسٹاک ۔
ز۔ ڈسٹرکٹ اسٹیسٹکل آفیسر، کراپس رپورٹنگ سروس۔”

پھر مزید خط و کتابت سے مجھے بتایا گیا کہ آلو کے بیج (بہتر کوالٹی) ایگریکلچر ریسرچ سنٹر سین لاشٹ سے مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایگریکلچر ایکسٹنشن آفیس جو کہ ہسپتال روڈ میں ایچ بی ایل (بنک) کے بالمقابل واقع ہے۔ پیر سے جمعہ، صبح نو بجے سے لیکر شام پانج بجے تک اس دفتر سے ضروری معلومات اور رہنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ فون پہ معلومات کےلیے۔ 0943412561

16 مارچ، 2021 کو میں نے مندرجہ بالا نمبر پہ کال کیا، اور ریسرچ اسسٹنٹ (افیسر) سے آلو اور گندم کے کوالٹی بیج، اور کھاد کی دستیابی کے حوالے سے بات کی۔ ریسرچ آفیسر نے بتایا کہ گندم کی تقریباً دو ہزار بوری معیاری بیج سرکاری سبسیڈائزڈ ریٹ پر نومبر میں تقسیم ہوئے۔ اب وہی بیج چترال بازار میں نسبتاً مہنگی قیمت میں مل سکتی ہے۔ مخصوص کھاد ہزار روپے سبسیڈی کے ساتھ اب بھی چترال میں مخصوص اوٹ لیٹ(شاپ) سے مل جائے گی۔

اور آلو کی گرم چشمہ کے آب و ہوا سے مطابقت رکھنے والے بیج کے بارے میں معلومات کےلیے مجھ سے وقت لیا۔ پھر 19 مارچ کو مجھے ٹیکسٹ کیا کہ ریسرچ سنٹر مانسہرہ سے رابطہ کیا ہے۔ مزید ویریفکشن اور اور کنفرمیشن کے ساتھ آپ کو تفصیلات سے آگاہ کریں گے۔ میں نے لکھا، انتظار رہے گا۔ اب تک انتظار کا دور چل رہا ہے۔

اسی گفتگو کے دوران پتہ چلا کہ گرم چشمہ سے صوبیدار امیراللہ، کریم آباد سے شاہ صاحب، اور ایک اور محترم (جس کا نام اسے یاد نہیں تھا) ان سے رابطے میں ہیں۔

مزید یہ بتایا کہ ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹ گرم چشمہ میں آفس کھولنے پر غور کررہا ہے۔ مجھے مشورہ دیا کہ آپ اپنے اور عوام کی طرف سے اپنے تحفظات اور مطالبات قلم بند کریں اور درخواست کی شکل میں ہمیں بھیج دیں۔ (ایمیل اڈریس بھی لکھوایا)۔ میں وہی گزارشات انہی سطور میں لکھ رہا ہوں تاکہ ایمیل کے انباکس میں سڑنے کےبجائے عوام الناس کو خبر ہو۔ اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگرچہ اس تگ و دو سے کچھ سوالات کے جزوی ہی سہی جواب مل گئے۔ مگر تشفی ہونے کے بجائے مزید سوالات جنم لیے۔ مثلاً ضلع چترال میں بالعموم، اور وادئ لوٹکوہ میں بالخصوص آلو، ٹماٹر، مٹر، گندم وغیرہ کی پیداور بڑھانے، پیداور اور آمدن کا حساب رکھنے، بیج کے انتخاب و دستیابی، اور مقامی کسان کے مفادات کے تحفظ کرنے میں مندرجہ بالا (چھ سات) آفسس اور آفیسرز کا کیا کردار رہا ہے؟

۱۔ کتنے کاشتکاروں کو ٹرینگ ملی ہے؟
۲۔ کوالٹی بیج کے انتخاب, دستیابی اور فراہمی میں ان کا کیا کردار ہے؟
۳۔ شہر سے آئے ہوئے آلو کے تاجر، اور ان کے لوکل ایجنٹس، مقامی کسانوں کا استحصال نہ کریں، اس حوالے سے ڈی سی آفس چترال، اور متعلقہ ایگریکلچر ڈیپارٹمنٹس (آفیسرز) کا کیا رول ہے؟
۴۔ سب سے اہم سوال۔ پورے چترال (اپر اینڈ لوئیر) میں لوٹکوہ واحد ایسا علاقہ ہے جو زرعی اجناس (آلو، ٹماٹر، مٹر اور دوسرے ڈرائی فروٹس) کی تجارت سے کم و بیش ایک ارب روپے کی بزنس دیتا ہے۔ جس سے مقامی اور ضلعی سطح پر لوگوں کو روزگار ملتی ہے۔ اب تک گرم چشمہ میں زراعت کا کوئی آفس، سب آفس کیوں نہیں ہے؟

ضلع چترال (اپر ،لوئیر) کے معزز خواتین و حضرات۔ اور خصوصاً لوٹکوہ کے میرے عَزیز ہم وطنو!
اپنے علاقے کی کسانوں (عوام) کی بھلائی کےلیے, اور بہتر زرعی پیداور و آمدن کے حصول کےلیے ان بنیادی سوالات پر غور کریں۔ جواب تلاش کریں۔ تجاویز دیں۔متعلقہ لوگوں (زمہ دارون) کی نشاندھی کریں اور ان کو جوابدہ بنانے میں کردار ادا کریں۔ شکریہ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button