کالم نگار

چترال کی ناپسندیدہ مگر حق پرست شخصیت ایک پہیلی

سمش الحق قمر

میری ڈائری کے اوراق سے

سقراط ایتھنزمیں ایک مجسمہ ساز خاندان میں پیدا ہوئے ۔ حق پرستی کی پاداش میں زہر کا گھونٹ پینا پڑا ۔ سقراط کی کہانی بڑی دلچسپ ہے ۔ اُن پر ایتھنز کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا الزام تھا -حکومت وقت اورعدالت وقت نے پانچ سو لوگوں پرمشتمل ایک کمیٹی بٹھائی جب انہوں نے اپنی رائے پیش کی تو نصف سے کچھ زیادہ اراکین نے سقراط کو حق پرستی پر قصور وار ٹھہریا ۔ لہذا اس بڑے جرم کی پاداش میں سقراط کوجیل جانا تھا یا پھر ملک بدر ہونا تھا اُنہوں نے کہا کہ جب حق پر اپنا ملک اور اپنے لوگوں میں مجھے تسلیم کرنے کی ہمت نہیں ہے تو دوسرے ملک کے لوگ مجھے کیسے برداشت کریں گے؟ میں اگر چاہوں تو کمیٹی کے اراکین سے رحم کی اپیل بھی کر سکتا ہوں لیکن میری اپیل کا مطلب حق پرستی اور سچائی سے سرمو انحراف کا مترادف ہوگا جس طرح میں نے آج تک سماج کے منافقانہ رویوں اور منافقت پر مبنی بے بال و پرروایات علم ِ بغاوت کیا ہے اُس جنگ کا ہر پل میری زندگی کا عظیم اثاثہ ہے لہذا میں بجائے جھوٹ کی حمایت کے چاہوں گا کہ اپنے قصے کو ایک تاریخی موڑ دیکر اپنے لئے موت کا راستے کا انتخاب اور اُن لوگوں کےلئے بے معنی زندگی تا راستہ چننا پسند کروں گا کہ جن کی حیات کی بنیاد قرنوں سے جھوٹ اور خوف کی بنیادوں پر استادہ ہے ۔انہوں نے زہر کے پیالے کو منہ لگانے سے پہلے یہ تاریخی جملہ بھی کہا تھا کہ تم لوگ میری زندگی کا چراغ گل کرکے اپنی غلطیوں پر ہمیشہ کےلئے منافقت کا پردہ ڈالنا چاہتے ہو لیکن یاد رکھو کہ آنے والے وقت میں کئی ایک سقراط پیدا ہوں گے جوکہ اللہ کی اس زمین پر حق و صداقت اور سچائی کی راج دھانی قائم کریں گے ۔ سقراط کے گئے صدیاں بیت گئیں لیکن دنیا سقراط کی صداقت پروری اور سچائی پر آج بھی فخر کرتی ہے ۔

میں جس آدمی کی بات کر رہا ہوں وہ چترال میں پیدا ہو ے ۔ اُس کے دل میں بھی سقراط کی طرح سچائی کی ایک چنگاری موجود تھی ۔ ایک طویل عرصے سےنہ صرف معاشرتی کمزوریوں کی نشان دہی کر رہے ہیں بلکہ کچھ ایسےزندہ مگر مخفی حقائق کا پردہ بھی یکے بعد دیگرے چاک کیے جا رہے ہیں جو صدیوں سے منافقت کےسیاہ کفن میں لپٹے نیم مردہ حالت میں کراہ رہی ہیں ۔ یہ دنیا کےمعدودے چند میں سے ہے جو اپنے دماغ اور فہم ادراک کو اللہ کی طرف سے ودیعت کردہ عظیم نعمت سمجھ کرانکے کما حقہ استعمال کو عبادت کی کسوٹی پر پرکھتا ہے ۔ جب یہ آدمی اپنے دماغ اور اپنی عقل سے سوچ کردقیانوسی روایات کے خول سے باہر آنے کی کوشش کرتے ہیں تو اُسی حوض میں قرنوں سے بند ضغیف العقیدہ لوگ اُن پر باغی ، نا سمجھ اور سماج دشمن و گمراہ کا الزام لگاتے ہیں تاہم سچ کا یہ حامی و پجاری کسی کی پراہ کیے بغیر سچ پر قائم و دائم ہے ۔ سب جانتے ہیں کہ سچ بولنا دینا میں سب سے مشکل کام ہے کیوں کہ سچ کی کڑواہٹ بہت شدید ہوتی ہے اور یہ کہ سچ بولنے کےلئے جان جوکھوں میں ڈالنا پڑتا ہے ۔ صاحب موصوف سچ کی شدید کڑواہٹ کے باوجود بھی بقول ناصرؔ، ایام کی تلخی کو غٹا غٹ پیئے جا رہے ہیں ۔ اُن کا خیال ہے کہ جس دھج سے وہ مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے یہ جان تو آنی جانی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ جو سولی پر چڑھتے ہوئے بھی اپنی سچائی پر اپنی جان تو قربان کرتے ہیں لیکن ٖزہر ہلاہل کو قند کبھی نہیں کہ سکتے یوں یہ وقتی طور پرمعتوب معاشرہ اور دشنام زمانہ رہتے ہیں لیکن اُن کے جانے کے بعد دنیا اُن کی باتوں کا ادراک کرتی ہے اور کف افسوس ملنے لگتی ہے۔

  ایسی ہی ایک انتہائی ناپسندیدہ شخصیت سے میری برقی ملاقات ہوئی اُن سے میری پرانی یاد للہ ضرورتھی لیکن اُن کے نظریات اوراُ ن کی تحریروں کی وساطت سے اُس کے اندر کے انسان یعنی ( اصلی انسان) سے ملنے کا موقعہ تا حال نہیں ملا تھا لیکن جب شرف ملاقات حاصل ہوا تو مجھ پر بہت سارے راز منکشف ہوئے ۔ سچی بات یہ ہے کہ جب تک کسی چیز ، شخص یا واقعے کے اجمالی خاکے کا عقدہ آپ پر نہ کھلے تب تک اُن کے بارے میں کچھ کہنے یااُن پرلکھنے کا خیال مہمل اور بھونڈا معلوم ہوتا ہےلہذا میں ایک طویل عرصے تک شک کی نظر سے اُنہیں دیکھتا اور پرکھتا رہا۔ میں جس شخصیت کی بات کر رہا ہوں اُن کے نظریات، اُن کی سوچ، تحاریر اور طرز تکلم کو برسوں سے آپ بھی دیکھ رہے ہیں اور میں پرکھ رہا ہوں۔ مجھے اُنہیں زندگی کی کسوٹی پر پرکھنے میں ایک طویل عرصہ لگا تب جاکراُن کی گفتگو ، سوچ اور عمل میں وہ مداؤمت نظر آئی جس کا ہالہ جہاں تک پھیلا ہوا تھا وہاں تک سچائی ، دانشمندی ، صداقت اور دوراندیشی کی روشنی پھوٹ رہی تھی ، جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے مات کھاتی اور دم توڑتی نظر آتی تھیں اوراُس کا ضمیر اُس سے اتنا مطمئیں تھا کہ اپنی کہی ہوئی کسی بھی بات پر شرمندگی اور ملال محسوس نہیں کرتے تھے ۔ یہ سب کچھ ٹٹول ٹٹول کر پرکھنے اور وزن کرنے کےبعد سوچا کہ یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں ۔ فرازؔ کے بھیس میں اُن سے گفتگو کا سما بندھ گیا ۔ کہانی یوں چلی کہ میں نے آج صبح فیس بک پر اُن کی ایک تحریر پڑھی تھی جو دل کو بھائی ۔ اگر چہ اس سے پہلے بھی موصوف کی کئی ایک حرکی گفتگو اور تحریروں سے ہم بار ہا گزرے تھے لیکن اب کی بار ہم سے رہا نہ گیا اُنہیں آن لائن دیکھ کر آؤ دیکھا نہ تاؤفوراً واٹسپ نمبر بھیجنے کی فرمائش کی ۔ انہوں نے پہلے مجھ سے میرا نمبر مانگا اور پھر میرے نمبر پر اپنے نام کے ساتھ تصدیقی پیغام بھیجا ۔ تھوڑی دیر بعد میں نے نمبر گھمایا اور ہماری بات چیت شروع ہوئی اور بات سے بات نکلتی گئی۔ ہم اُن کے نظریات پر گفتگو ضرور کریں گے لیکن کچھ توقّف کے بعد ۔ بہر حال اس پہیلی کو بوجھنے اور جاننے کےلئے آپ علامہ اقبال کے اس شہرہ افاق شعر سے استفادہ کر سکتے ہیں ۔

؎ نماز و روزہ و قربانی و حج یہ سب باقی ہیں، تُو باقی نہیں ہے

آپ نے اگر میری تحریر پڑھی ہے تو ضرور جاننے کی کوشش کیجئے کہ یہ شخصیت ہیں کون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button