کالم نگار

محنت کش خواتین اور بنیادی اسلامی حقوق

ظفر احمد

 

 

8 مارچ کو پوری دنیا میں خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا گیا جس کا مقصد دنیا کو یہ بتانا تھا کہ خواتین بھی مردوں کی طرح ہی انسان ہیں، لہٰذا برابری کی بنیاد پر خواتین کو بھی وہ حقوق دیے جائیں جو مردوں کو حاصل ہیں۔ اسی مناسبت سے پاکستان میں "ویمن مارچ” میں حقوق سے متعلق بہت سارے نعرے بھی لگے جن میں سے کچھ کو لے روایات پسندوں نے زمین و آسمان سر پر اٹھا لیے ہیں۔ کہا یہی جا رہا ہے کہ اگر یہی خواتین حقوق مانگتے تو وہی مانگتے جو اسلام نے ان کو دیے ہیں۔ میرے نزدیک جو بھی نعرے لگے وہ سب جائز ہیں اور خواتین کو وہ سارے حقوق ملنی چاہیے جو مردوں کو حاصل ہے، مگر کچھ ہمارے مومینین و مومنات اور خود اپنے محنت کش طبقے سے لگاؤ کو مد نظر رکھتے ہوئے ان بنیادی حقوق کی بات کرتے ہیں جو بقول ہمارے مجاہدین اگر یہ خواتین مخلص ہوتے تو مطالبہ کرتے۔

محنت کش خواتین ہمارے ہاں وہ بد قسمت مخلوق ہیں جو نہ صرف مردوں بلکہ اپنے ہی جیسے خواتین کے استحصال کا بھی شکار ہیں جن کو بنیادی انسانی حقوق بھی میسر نہیں۔ چلیں ایک سیکنڈ کے لیے مان لیتے ہیں کہ نعرے جیسے "طلاق شدہ مگر خوش”، "میرا جسم میری مرضی” ، "اپنے برتن خود دھو لو”، اپنا کھانا اور بستر خود گرم کر لیں” جائز مطالبے نہیں جن کا محنت کش طبقے سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی دین ان کی اجازت دیتا ہے۔ لیکن تنہائی میں اپنے آپ سے پوچھ لیں کیا نعرے مثلاً "ماں ہوں، بہن ہوں ، بیوی ہوں ، گالی نہیں”، "تعلیم دو، جائیداد میں حصہ دو جہیز نہیں”، پڑھے گی تو بڑھے گی”، "میری بیٹی پڑھے گی”، "یکسان اجرت دے دو”، "تم ابن آدم ہو، میں بنت حوا ہوں”، فیصلہ سازی اور سیاست میں حصہ دو”، "گھریلو تشدد بند کو لو”، گھریلو ملازمین کو حقوق دے دو "، "غیرت کے نام پر قتل بند کو دو "، "زچگی کی چھٹیوں میں اضافہ کر دو”، "ہمارا مطالبہ امن ، انصاف ، تعلیم اور صحت”، "آو مل کر کام کریں” وغیرہ، ان نغروں میں سے کتنے نا جائز اور اسلام کے دائرے سے باہر ہیں؟

میری کم علم کے مطابق دوسرے لسٹ میں دیے گئے مطالبات میں سے ایک بھی اسلام سے متصادم نہیں، پھر کیا وجہ ہے کہ امن کے خود ساختہ سند یافتہ چترالیوں کو یہ سارے اسلامی حقوق نظر نہیں آتے مگر صرف ایک ہی بینر "اپنے برتن خود دھو لیں” نظر آتی ہے جس پر وہ گالیوں اورذاتیات تک اتر آتے ہیں؟

چترال کے سارے خواتین طبقاتی لحاظ سے محنت کش طبقے کے ہی زمرے میں آتی ہیں لیکن کیا ہم وہ بنیادی حقوق ان کو دیتے ہیں جس کی دین بھی اجازت دیتا ہے۔ مثلاً کیا ہم بیٹیوں کو جائیداد میں حصہ دیتے ہیں؟ سب سے زیادہ مقدمات میراث کے ہی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ، وہاں پر بھی خواتین خود سے زیادہ شوہروں کے دباؤ میں مطالبہ کرکے بھائیوں کی محبت سے محروم ہو جاتے ہیں گویا اگر جائیداد میں حصہ مانگے گی تو بہن بھی نہیں رہے گی۔

اسی طرح گھریلو کام کو ہی دیکھ لیں ، کیا مذہب نے بچے کو دودھ پلانے کے علاوہ برتن دھونے، مرد کے جوتے اور کپڑےچمکانے جیسے کاموں کو عورت کی ذمہ داری قرار دی ہے اگر دی بھی ہے تو کیا ہم ان کاموں کی وجہ سے عورت کو وہ احترام دیتے ہیں یا برتن اور کپڑے دھونے میں کبھی ہاتھ بٹاتے ہیں؟ کیا تہذیب کے اعلٰی معیار پر فائز چترالی مرد، عورت کی consent کو شادی اور ازدوجی تعلق میں اہمیت دیتے ہیں؟ اگر دیتے ہیں تو "میری consent ” جیسے نغروں سے ہم کیوں حواس باختہ ہو جاتے ہیں؟ کیا ہمارے معاشرے میں عورت کو طلاق یا خلع کا حق حاصل ہے؟ کیا چترال میں یہ کہاوت مشہور نہیں ہے "تا پھور تا دھونو غون بونی تا آزاد نو کوم”۔ کیا ہمارے معاشرے میں نوکری کرنے والی عورتوں کو کھانا پکانے اور برتن دھونے سے چھوٹ ملتی ہے؟ کیا ماں بہن کی گالی معمول کے بول چال کا حصہ نہیں؟ ہم خود سے پوچھ لیں ہم مرد صحبح کس وقت اٹھتے ہیں اور ہماری ماں بہنیں کس وقت ؟ کیا ہمارے رویوں میں عورت کو کمتر مخلوق سمجھنے والے عناصر شامل نہیں ہیں؟ کیا ہمارے عورتوں کو شغل مثلاً کھیل، تفریح وغیرہ کی کوئی ضرورت ہم نے کبھی محسوس کی ہیں؟ کیا ہمارے ہاں باب ، بھائی ، ساس ، سسر وغیرہ کے خواتین کے متعلق رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت نہیں ہے؟

ہم ہر وقت عورتوں کو سب سے زیادہ تحفظ اورحقوق اسلام دیتا ہے کا شوشہ چھوٹتے ہیں ،کیا ہم نے وہ سارے حقوق اپنے خواتین کو دیے ہیں جن کی اسلام نے اجازت دی ہے؟ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم پر آمن اور خواتین کے تعلیم میں ٹاپ پر ہیں۔ کیا تعلیم دینا کافی ہے ؟ رویے اور ذہن تو وہی بھوسے بھرے ہوئے ہیں۔ تعلیم ہم روزگار کے لیے دیتے ہیں نہ کہ تہذیب کی خاطر۔ ایک بینر نے ہماری تہذیب کی اصلیت ظاہر کر دی۔ اگر وہ نغرہ غلط بھی تھا تو کیا تہذیب کے ٹھیکہ داروں کا اتنا شور اور گالیاں جائز تھیں ؟ تشدد کا نہ ہونا ہی پرامن ہونا نہیں کہلاتا بلکہ اس کے لیے ساتھ ساتھ منفی چیزوں کا خاتمہ خصوصاً رویوں میں بہتری بھی ضروری جز ہے۔ جبکہ ہمارے رویوں میں تشدد کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا ہے۔ ہماری عدم تشدد تو محض بقول گاندھی "کمزوروں کی عدم تشدد ہے”۔

دوسری طرف ہمارے تضادات منافقت کی اس لیول کو پہنچ چکی ہیں کہ اسلام اور تہزیب کا لبادہ تو آوڑ لیتے ہیں مگر بنیادی اسلامی حقوق بھی دینے کو تیار نہیں۔ حالانکہ بینرز پر لکھے گئے کوئی بھی مطالبہ ایسا نہیں جسے معاشرتی رویوں کا رد عمل نہ کہا جا سکے۔ Misogany کے لیے جواز تلاش کرنے والوں کو ایک لڑکی کی بینر تو نظر آتی ہے مگر تیزاب سے جلے ہوئے چہرے، تیزاب پھینکنے والے ، غیرت کے نام پر قتل کرنے والے ، اسمبلی میں کھڑے ہو کر عورت کی تضحیک کرنے والے ، عورت ہونے کو معیوب سمجھنے والے ، عورت کے نام پر گالی دینے والے اور نہ جانے اور کیا کیا مظالم ڈھانے والے نظر نہیں آتے۔ شاید "مارچ” کرنے سے پہلے خواتین نے اپنے دوپٹے ان کے چہروں پہ باندھ دیے تھے۔

ان سب سے مایوس کن بات یہ ہے کہ دانشور سمجھے جانے والے حضرات یا تو خاموش ہیں یا ہھر اشاروں کنایوں میں اسی بیانیے کو سپورٹ کر رہے ہیں جو خواتین کی حقوق کے مطالبے پر سیخ پا ہیں۔

(نوٹ: میں عورت مارچ کے کسی بھی نغرے کو غلط کہنے کی بجائے وجوہات سمجھنے کا قائل ہوں۔ ان نغروں کو غیر ضروری کہنے والوں سے عرض ہے کہ کیا وہ بنیادی حقوق دینے کے حق میں یا دیتے ہیں جو ایک لڑکی کی”تان خشٹارن تان زپن تان نیگور” جیسے محض ایک بینر پر گالیوں پر اتر آئے ہیں ؟)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button