چترالیوں کی کامیابی

انوار امان

انوار امان کا تعلق وادی لٹکوہ (کریم آباد) کے بشگرام گاوں سے ہے۔ آپ کے والد کا نام دست امان خان ہے۔ انور امان صاحب1995ء میں تلاش معاش میں سمندر پار جانے کا فیصلہ کیا

انوار امان کا تعلق وادی لٹکوہ (کریم آباد) کے بشگرام گاوں سے ہے۔ آپ کے والد کا نام دست امان خان ہے۔ انور امان صاحب1995ء میں تلاش معاش میں سمندر پار جانے کا فیصلہ کیا ۔ نو وارد نواجوان کے لیے امریکہ دیار غیر تھا ۔ ایک ایسا ملک جہاں کوئی انور کا نہیں تھا لیکن انور نے تمام کشتیاں جلا رکھی تھیں اُنہوں نے اپنے دل سے جو وعدہ کیا تھا اُس وعدے کو وفا کرنے کےلیے مٹ تو سکتا تھا لیکن ہمت ہارکے واپسی کا راستہ اختیار کرنا کبھی بھی گورا نہ تھا ۔ لہذا انور امان نے سخت کوشی کو اپنے مشکل دنوں کا بہترین ہم سفر سمھجھتے ہوئے وادیِ پُر خار کا کٹھن سفر جاری رکھا ۔ کہتے ہیں کہ سونے کو کندھن بننے کےلیے بھڑکتی آگ سے گزرنا پڑتا ہے اور قطرے کو گوہر بننے کےلیے سمندروں کے کنارے منہ کھولے اپنے شکار کے تاک میں بیٹھے نہنگوں سے بچ نکل کر ایک ایسی مچھلی کے پیٹ میں گوشہ نشین ہونا ہوتا ہے جس کے اندر قطرے کو موتی بنانے کا جوہر موجود ہو ۔ موصوف نے یہی کچھ کیا اپنے آپ کو سخت محنت اور مشقت کی بھٹی میں اتنا جلایا اور اتنا تپایا کہ کندھن بن کے اُبھرا ۔ کسی بھی مشکل کے سامنے ہمت ہار کے منجمند رہنا آپ کی زندگی کی لغت میں موت کا دوسرا نام تھا ۔ لہذا انور بھائی زندگی کے ہاتھوں مرنا نہیں چاہتےتھے بلکہ زندگی کو مختلف رنگوں میں دیکھ کر اُن سے لطف اُٹھانا چاہتے تھے ۔ انور ، انور کی زندگی اور اپ کا گردو پیش ہماری آج کی گفتگو کا مرکز تھا ۔

آنور بھائی کی نظر میں انسان کے ارادے جب پختہ اور مصمم ہوں تو بڑی بڑی چوٹیاں انسان کے قدمون تلے بے خانماں ہو جایا کرتی ہیں ۔ آپ کو یہ جان کر خوشگوار حیرت ہوگی کہ موصوف نے چھ سو پچیس ڈالر سے ذاتی کاروبار کا آغاز کیا تھا ۔ یہ قدم آپ کی کامیابیوں کی پہلی سیڑھی ثابت ہوا ۔ اب انور امریکہ کی ریاست ٹینیسی میں ریڈینٹ گروپ کے چیف ایکزیگٹیو افیسر ہیں۔ اور دو سو پچیس سے ذائد بڑی کمپنیوں کے مالک ہیں۔

انور کی زندگی میں آپ کی والدہ کا کلیدی کردار رہا ہے ۔ پچیس سالوں سے امریکہ میں مقیم شان و شوکت سے زندگی گزارنے والے بزنس من کی ماں کی مامتا نے اُنہیں کھینج کر دوبارہ اُسی مٹی کی خدمت کےلئے اُسی جگہے پر لا کھڑا کیا جہاں سے موصوف کی زندگی کی خمیر اُٹھی تھی ۔ انور کی والدہ شاعرہ تھیں۔ 2007 کا سال اُس وقت قیامت بن کر انور پر گر پڑا جب آپ کی عظیم والدہ کی زندگی کا سایہ ہمیشہ کےلیے آپ سے روٹھ گیا یوں چترال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بننے والے پانچ ستارہ ہوٹل کے نام کا انتساب اپنی ماں کے نام کرکے محترمہ بی جان( مرحومہ ) کی فرقت کے غم کوبانںٹے کی کوشش کی ۔ یہ انور کی اپنی ماں اور اپنی دھرتی سے محبت کی بہتریں مثال ہے۔

بی جان ہوٹل 80 کمروں پر مشتمل جدید اور روایتی طرز تعمیرکی آئینہ دار ایک شاندار عمارت کا نام ہے ۔ اس ہوٹل کے مصروف عمل ہونے کے ساتھ ہی ملازمت کی کم وبیش 170 آسامیوں کی گنجائش ہوگی ۔
بلا واسطہ مواقع اس کے علاوہ ہونگے۔ انور خود کو چترال کا بیٹا کہتے ہیں۔ اور وہ بلا امتیاز و تفریق چترال کی خدمت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔ آپ نے اس بات کا اعادہ بی جان ہوٹل کی افتحاح کے موقعے پر چترال کے طول و عرض سے آئے ہوئے شراکا اور مندوبین کی محفل میں بھی کیا تھا ۔

انور امان صاحب موجودہ وقت میں حکومت پاکستان کیساتھ کئی منصوبوں پر سرمایہ کی ہے اور کئی کیساتھ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔
گزشتہ چھ مہینوں میں وزیراعظم عمران سمیت کئی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں۔ چترال کی تعمیر و ترقی کے سلسلے سنجیدگی سے کام کررہے ہیں۔

انور کی اہلیہ نسرین امان آپ کی دست راست ہیں۔ نسرین سپارک فاونڈیشین اور خیبر پختونخواہ حکومت کے اشتراک سے اسٹریٹ چائلڈ کے پر کام کررہی ہیں۔ نسریں صاحبہ چترال سے خاص لگاو رکھتی ہیں۔ اور انور کے ساتھ مل کر چترال کی ترقی میں بھر پور کردار ادا کررہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button