خواتین کا صفحہکالم نگار

دورحاضر کہاں تک ہم سے محنت کا متقاصی ہے ؟

محنت کی اہمیت اور اس کے فوائد کے بارے میں بے شمار گفگتو اور تحاریر موجود ہیں لہذا ہم اس موضوع پر بات چیت نہیں کریں گے بلکہ اس وقت ہم یہ سوچتے ہیں کہ بچے اپنے اندر ان تھک محنت کا جذبہ کیسے پیدا کریں

بی بی آمنہ نگار

 

محنت کی اہمیت اور اس کے فوائد کے بارے میں بے شمار  گفگتو اور تحاریر موجود ہیں  لہذا ہم اس موضوع پر  بات چیت نہیں کریں گے بلکہ اس وقت ہم یہ سوچتے ہیں کہ  بچے اپنے اندر ان تھک محنت کا جذبہ کیسے پیدا کریں ؟ کیونکہ اس بات  سے کوئی بھی  سرمو انحراف نہیں کر سکتا کہ سخت محنت درخشاں مستقبل کا ضامن  ہے اور اس کے بغیر زندگی میں کوئی بھی چیز آسانی سے حاصل نہیں  ہو سکتی ۔سخت محنت و مشقت ہی  وہ  واحد ذریعہ  ہے جو  کہ بے یقینی کو یقین میں بدل دیتا ہے اور ناممکن کو ممکن بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

 مندرجہ ذیل کچھ تجاویز پیش خدمت  ہیں جو کہ بچوں کو محنت کرنے کے عا دی بنانے میں ممدو معاون ہو سکتی ہیں۔

۱- ان تھک محنت کرنے کے لیے صحت مند جسم کا ہو نا انتہائی ضروری ہے اور اس کے لیے نیند کا پور ی ہو نا ا یک بنیادی عمل ہے۔ وقت پر سونا اور وقت پر اٹھنانہ صرف جسم کو صحت مند رکھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ روزمرہ کے کاموں کو وقت پر نمٹا نے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔  لیکن ہمارے اج کل کے بچوں کے  سونے اور اٹھنے کا وقت انتہائی پریشان کن ہے انہیں جب سو نا ہوتا ہے تب وہ جاگتے ہیں اور جب  اٹھنا ہو تو سو جاتے ہیں۔ سونے اور اٹھنے کے اوقات کو معمول کے مطابق بنانا ان  کے  کاموں میں آسانیان پیدا کرسکتا ہے ۔اور وہ وقت کا صحیح استعمال کر کے اپنے کاموں کو خوش اسلوبی سے نبھا سکتے ہیں۔علا وہ ازیں، کھانے کا خیال رکھنا یعنی کہ متوازن غذا کا استعمال اور بازار کی غیر صحت مند خوراک مثال کے طور پر چپس وغیرہ کھانے سے گریز کرنے سے وہ صحت مند رہ سکتے ہیں اور صحت مند جسم ان کو ایک محنتی انساں بننے میں مدد دے سکتا ہے۔    

۲۔ بچوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی   زندگی کے لیے اہداف مقرر کریں۔مثال کے طور پر وہ بڑا ہو کر کوئی پیشہ اختیار کرنا چا ہتے ہیں تو اس پیشے کی خاصیتیں اپنے اندر پیدا کریں اور تعلیمی میدان میں اس کے لیے جو مضامین پڑھنے ہیں ان مضامین پر ان کو عبور حاصل ہو۔ اپنے اہداف کے حصول کے لیے پہلے ان اہداف کو چھوٹے چھوٹے مقاصد میں تقسیم کریں اور ہر مقصد کے سامنے اس کی وجہ بھی ضرور لکھیں کہ اس مقصد کا حصول زندگی کے  اہداف کےحصول میں کس طرح مددگار ہو گا ۔

۳۔ ان چھو ٹے چھوٹے مقا صد  کو حاصل کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ان کے لیے  واضح منصوبہ بندی کی جائے ۔ یعنی کہ کون سا کا م کب اور کس طرح کرنا ہے اور اس کے لیے کس قسم کی مدد چاہیے۔ ان سب کی وضاحت موجود ہونی چاہیے تاکہ ہر کام اپنے مقررہ وقت پر مکمل ہو جاےٗ۔

۴۔ منصوبہ بندی سے پہلے اُن تمام لوازمات کی فہرست بنا ئیں اور فہرست میں موجود  عوامل کو  ہر قسم کی غیر ضروری رکاوٹوں سے  پاک کرکے  کامیابی سے ہم کنار کرنے کےلئے  طریقہ ہائے کار  تشکیل دینا بھی ضروری ہے  تاکہ آپ کی منصوبہ بندی بغیر کسی خلل کے  اپنے منطقی نتیجے تک پہنچ سکے ۔ مثال کے طور پر مو بائل یا ٹی۔وی دیکھنے  کے بہت زیادہ عا دی یا  دوستو ں کے ساتھ  زیادہ وقت گزارنے والے بچوں  کی عادتیں اُن سے چھڑوانے  کےلئے کونسے طریقے  بہتر  ثابت ہو سکتے ہیں  اور کونسے طریقے مزید  بگاڑ  کا سبب بن سکتے ہیں ۔ اس سر گرمی کو عملی جامہ پہنانے کےلئے والدین پر لازم ہے کہ  وہ اپنی بچوں کے لئے  منصوبہ بندی کریں  اور ممکنہ  رکاوٹوں کی ایک فہرست  بنا کر اپنی پوری توجہ مبذول کرتے ہوئےان رُوکاوٹوں کو کم کرنے کی کوشیش کریں۔

۵۔ اپنے آپ کو  وقت کا پا بند بنانے اور اپنے کاموں کو وقت پر ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر دن کا آغاز اس طرح ہو کہ اس پورے دن کئے جانے والے  کاموں کی فہرست موجود ہو۔ دن کے آ خر میں یہ سمجھنے میں آسانی ہو گی کہ کون سا کام کس وجہ سے نا مکمل رہا اور  آئندہ ایسے حالات میں کیا تدابیر اختیار کرنی  ہوں گی کہ کاموں کی تکمیل میں کسی قسم کی کوئی  روکاوٹ نہ ہو۔

۶۔ سب سے اہم اور بنیادی چیز انسان کی اپنی سوچ ہے جو کہ اس کو آسماں کی بلندی تک بھی پہنچا سکتی  ہے اور زمیں میں بھی گرا سکتی  ہے۔ اس لیے اپنے ذہن سے منفی سوچ ختم کرنا ضروری ہے۔  ہر چیز کے بارے میں مثبت سوچ رکھنے سے  زندگی میں آسانیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اور ان تھک محنت کے ذریعے  زندگی کے مقاصد حاصل کرنے میں کامیابی حاصل ہو سکتی ہے

۷۔ اپنے آپ کو منظم کرنا اور وقت کی قدر کرنا  ز ندگی کے لئے  مقرر کردہ اہداف کے حصول میں مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔

اس تحریر کے اختتام پر میں مو جودہ دور میں آگے بڑھنے اور اپنے لیے مقام بنانے کے لیے وقت کی اہمیت اور اپنے آپ کو ان تھک محنت کی عا دی بنانے کے لیے چترال کے مشہور نوجوان شاعر اظہر علی اظہر کے اس شعر کو پیش کرتی ہوں جس میں اس نے محنت سے جی چرانے کے خدشات کو ظاہر کیا ہے۔

"داور غیچ پوشار بیر تا اچی پیسی

ای جو غوزار لاکھی بیچے کو ہش بوٗے”  

 اس شعر کا مطلب اردو میں کچھ اس طرح ہو گا۔

” اگر آپ دو قدم چل کر سستانے کی کوشیش کرو گے تو زمانہ  آپ کو چھوڑ کر اتنی دور نکل جائےگا کہ دیکھتے ہی دیکھتے آپ کی نظروں سے اوجھل ہو جا ٰئے گا ۔ "

اس کا یہ مطلب نکلے گا کہ ان تھک محنت، وقت کی قدر اور اپنے آپ کو منظم کرنا ہی آپ کو دور حاضر کے مقابلے اور اپنے آپ کو وقت کے مطابق ڈھالنے میں مدد دے سکتا ہے ۔ ورنہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا اور پلک جھپکتے ہی گزر جاتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button