چترالیوں کی کامیابی

چترال کے پہلے سی ایس ایس آفیسر

اللہ تعالیٰ کی بڑی مہربانی ہے آج کے بچوں پر کہ وہ اپنی تعلیم اور زندگی کی خواہشات کے حصول کے سلسلے میں مالی پریشانیوں سے دوچار نہیں ہیں

شیر ولی خان اسیر

اللہ تعالیٰ کی بڑی مہربانی ہے آج کے بچوں پر کہ وہ اپنی تعلیم اور زندگی کی خواہشات کے حصول کے سلسلے میں مالی پریشانیوں سے دوچار نہیں ہیں اور نہ انہیں ان قدیم منفی رویوں سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے جو تعلیم حاصل کر نے کی راہ میں رکاوٹ تھے۔ خاص کرکے بچیاں جن کی پیشرو لڑکیاں تعلیم کے ساتھ بہت سارے حقوق سے محروم تھیں۔ جن بچوں کو آج مالی اور اعلے تعلیمی مواقع کی سہولیات میسر ہیں ان میں سے بہت سارےبچے نہ صرف بہترین تعلیم و تربیت سے مستفید ہوتے ہیں بلکہ اعلے سرکاری و غیر سرکاری عہدوں پر فائز ہونے میں بھی کامیاب ہوتے ہیں۔ آئے روز ہمیں فیس بک اور دوسرے میڈیا کے ذرائع سے خوشخبریاں ملتی رہتی ہیں کہ فلان بچے نے بورڈ یا یونیورسٹی ٹاپ کیا، فلان نے گولڈ میڈل حاصل کیا، فلان نے کمیشن کا امتحان پاس کیا اور فلان فلاں میڈیکل کالجوں میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور ہم ان بچوں کو فخر چترال ہونے کے کم از کم زبانی اعزازات اور حوصلہ افزائی سے نوازتے ہیں۔ آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے کے چترال کا موجودہ دور سے موازنہ کیا جائے تو ناقابل یقین حد تک فرق نظر آئیگا۔ ذہنی اور مالی اعتبار سے اس انتہائی پسماندہ دور میں جن جن خواتین و حضرات نے خالص زاتی جدوجہد کے ذریعے اور اپنے بل بوتے پر تعلیم حاصل کیں، اعلے عہدوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے اور قوم کی بہترین خدمات انجام دیں ان کا ذکر خیر کرنا اور ان کی خدمات کا اعتراف کرنا ہم پر فرض اور قرض ہے کیونکہ وہ بلواسطہ یا بلاواسطہ ہمارے محسن ہیں اور چترال کے لیے قابل فخر اور موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے قابل تقلید رول ماڈل ہیں۔
انہی عظیم شخصیات میں ایک جناب سردار علی سردار امان صاحب ہیں۔ سردار علی صاحب 1935 میں بونی کے معزز زوندرے خاندان میں سردار امان کے ہاں پیدا ہوئے۔ ان کے والد اور چچے اپنے دور کے معتبرات میں سے تھے اور ریاستی حکمرانوں اور اسمعیلی امامی اداروں کے اہلکاروں کے سامنے اثر و رسوخ رکھتے تھے وہ خود غیر رسمی واجبی تعلیم یافتہ تھے اور تعلیم کی اہمیت اور ضرورت سے پوری طرح واقف تھے۔اس لیے سب سے پہلے ان کو اپنے بچوں کی تعلیم کی فکر ہوئی۔ گاؤں میں کوئی سکول نہیں تھا۔ سردار امان، حیدر احمد المعروف وزیر ( شیرزاد علی کے والد ماجد) اور افضل علی صاحب کے والد افضل امان اس وقت کے تعلیم یافتہ طبقے میں شامل تھے۔ ان کا چچا قاسم خان ( پدر قاسم علی اینڈ حسن علی مرحوم) اپنے زمانے کے تعلیم یافتہ افراد میں شمار ہوتے تھے۔
سردار علی صاحب نے اپنی ابتدائی غیر رس تعلیم گھر اور گاؤں کے بزرگوں سے حاصل کی اور فارسی اور اردو میں خط و کتابت کی اہلیت حاصل کی۔ 1944 میں ان کے چچا حیدر احمد ان کو اور افضل علی کو لے کر بمبئی ( آج کےممبئی) پہنچ گئے۔ ممبئی شہر اس زمانے میں اسمعیلی اماموں کا مستقر تھا۔ یہ امام سر سلطان محمد شاہ، آغاخان سوئم کا دور امامت تھا۔ سردار علی اور افضل علی کم و بیش نو سال سینٹ میریز ہائی اسکول بمبئی میں زیر تعلیم رہے۔ جب انہوں نے 1951 میں بمبئی سے میٹرک پاس کیا تو انہیں چترال بلایا گیا کیونکہ یہاں بعد از ریاستی اصلاحات جگہہ جگہہ پرائمری اسکول قائم ہو رہے تھے جن کے لیے اساتذہ کی ضرورت تھی۔ سردار علی اور افضل علی صاحباں تین سال تک بونی کے مڈل اسکول میں پڑھاتے رہے۔ سردار علی صاحب بطور ہیڈ ماسٹر مڈل اسکول بونی میں تین سال پڑھانے کے بعد ٹیچرز ٹریننگ اسکول ہری پور میں جے اے وی ٹرننگ کے لیے نامزد ہوئے۔
سردار علی اپنی میٹرک تعلیم اور ملازمت سے مطمئن نہیں تھے۔ وہ اپنی علمی صلاحیت بڑھانا چاہتے تھے۔ ان کی سوچ اونچی، منزل کچھ اور تھی اور ارادے مظبوط تھے جب کہ ان کے والد صاحب ان کی ملازمت سے خوش اور مطمئن تھے کیونکہ اس زمانے میں ملازمت کے ذریعے مالی حالت کی بہتری میں بڑی اہمیت رکھتی تھی اور میٹرک پاس آدمی کو اعلےٰ تعلیم یافتہ سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی سردارعلی اپنے بابا کے سامنے اپنی خواہش کا اظہار نہیں کرسکتا تھا۔ جب انہیں ٹرننگ کے لیے نامزد کیا گیا تو انہیں اسی بہانے گھر سے نکلنے کا موقع ملا اور ٹیچرز ٹریننگ اسکول ہری پور جانی کے بجائے سیدھا کراچی پہنچ گئے۔ اس زمانے میں کراچی ہی واحد شہر تھا جہاں ملازمت کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر تھے۔ وہاں اپنے بزرگوں کے تعلقات کا فائدہ اٹھا کر امامت کے اداروں سے تھوڑی بہت مدد لینے میں بھی کامیاب ہوگئے۔ چونکہ سردار علی صاحب کی منزل اعلی تعلیم تھی۔چھوٹی موٹی ملازمت کے ساتھ اپنی تعلیم جاری رکھی۔ نامساعد حالات اور گوناگون مشکلات کا جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے 1956 میں سندھ مسلم کالج کراچی سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ 1958 میں کراچی یونیورسٹی سے ایم اے اکنامکس اچھی پوزیشن میں پاس کیا۔ دو سال حبیب بنک میں بطور پروبیشنل افسر کام کیا۔ 1961 میں سنٹرل سپیرئیر سروس آف پاکستان کا امتحان پاس کرکے محکمہ ڈاک جائین کیا۔ دو سال متعلقہ شعبے میں ٹرننگ حاصل کرنے کے بعد 1963 میں بطور ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ کراچی تعینات ہوئے۔ یوں سردار علی صاحب اپنی انتھک محنت اور بلند نصب العین کی بدولت چترال سے پاکستان سول سروس کے پہلے کلاس ون آفیسر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
گریڈ 17 میں آفیسر بھارتی ہونے کے بعد محکمہ ڈاک پاکستان میں لمبے عرصے تک مختلف حیثیتوں میں کام کیا۔ بطور ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ،کنٹرولر پوسٹ افسز، اسسٹنٹ پوسٹ ماسٹر جنرل، جنرل منیجر (پرسنل) ڈپٹی پوسٹ ماسٹر مختلف اعلےٰ عہدوں پر بہترین خدمات انجام دینے کے بعد 1985 میں گریڈ 20 میں ترقی پاکر این ڈبلیو ایف پی سرکل کے پوسٹ ماسٹر جنرل مقرر ہوئے۔ 1993 میں گریڈ 21 میں بحیثیت ڈائریکٹر جنرل پاکستان پوسٹ آفسز کارپوریشن ترقی پائی۔ 1995 میں بحیثیت ڈی جی پاکستان پوسٹل کارپوریشن ملازمت سے سبکدوش ہوکر خانہ نشین ہوگئے۔ سردار علی صاحب کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہ چترال کے پہلے آفیسر ہیں جو اپنے محکمے کے سب سے اونچے عہدے تک ترقی پانے کے بعد ملازمت سے باعزت ریٹائر ہوئے۔
سردار علی صاحب نے عام طور پورے پاکستان کی اور خاص طور پر چترال اور اہل چترال کی بہترین خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے چترال کے گاؤں گاؤں میں ڈاکخانے کھولے اور مقامی لوگوں غریب کو ملازمتیں دیں۔ چترالی جوانوں کو ملک کے دوسرے حصوں میں بھی ملازمتیں دلوائیں۔ یوں اپنے پسماندہ جنم بھومی کے عوام کی ترقی میں سب سے اعلےٰ و ارفع کردار ادا کیا۔ جب ہم ان کے ہاتھوں ملازمت میں بھرتی ہونے واکے لوگوں کی اولاد کو بہترین تعلیم سے آراستہ اور اچھے عہدوں پر فائز دیکھتے ہیں تو لا محلہ دل سے ان کے حق میں دعاء نکلتی کہ اے اللہ تو چترال کے عظیم فرزند کو دونوں جہانوں میں سرخ رو رکھ اور ان کی اولاد کو آباد و شاداب رکھ، امین۔
سردار علی صاحب اپنی خوش حلقی،قدردانی اور انتہائی درجے کی مہمان نوازی کے لیے بھی بڑی شہرت رکھتے ہیں۔ ان کی خاطر تواضع سے مستفید لوگ جانتے ہیں کہ سردار علی صاحب دوران ملازمت جس طرح منکسرالمزاج، غرور و تکبر سے پاک اور خادم خاص و عام شخصیت کے مالک تھے وہ آج میں ویسے ہی ہیں البتہ عمر اور جسمانی عوارض انہیں اپنی خواہش کے مطابق کردار ادا کرنے نہیں دے رہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ان کے فرزند ارجمند جاوید علی صاحب جو پی ایم ایس آفیسر ہیں اپنے عظیم بابا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بابا کی خواہش کے مطابق مہمانوں کی اوبھگت میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے۔ اپنے فرزند کی خدمات سے سردار صاحب بہت مطمئن اور خوش ہیں۔ اپنے عظیم بابا کی خدمت کا حق ادا کرنے پر ہم نہ صرف برخوردارم جاوید کے شکر گزار ہیں بلکہ ان کے کامیاب و کامران مستقبل کے لیے دعاگو بھی ہیں۔ جاوید جیسا بیٹا اور بیگم جاوید جیسی بہو آج کی اولاد کے لیے قابل تقلید ہیں۔ سردار علی صاحب کی شریک حیات، منڈغو کئے کی چار پانج سال پہلے رحلت ہوئی تھی اور جو اپنے شوہر نامدار کی بہترین خدمتگار اور ساتھی تھیں، ان کی بہو بیگم جاوید جو برادرم رحمت غازی کی دختر نیک اختر ہیں اپنے سسر کی خدمات میں انہیں اپنی ساس کی کمی کا احساس نہیں ہونے دیا ہے۔ اللہ پاک ان میاں بیوی کو دونوں جہانوں میں آباد و سرخرو رکھے اور اس خاندان کو یوں ہی شاد اباد اور پھلتا پھولتا رکھے، آمین!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button