کالم نگار

صحابیات ؓ کی معاشی اورسماجی کردار کی چند مثالیں ۔ قسط دوئم

اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ قرن اول کی مسلمان عورتیں بالخصوص صحابیات رضی اللہ عنہن امور خانہ داری کے علاوہ دیگر معاملات ومشاغل میں بھر پور حصہ لیا ہے

ریاض الدین

فاضل علوم اسلامیہ ومتخصص فی الفقہ اسلام آباد

اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ قرن اول کی مسلمان عورتیں بالخصوص صحابیات رضی اللہ عنہن امور خانہ داری کے علاوہ دیگر معاملات ومشاغل میں بھر پور حصہ لیا ہے مثلاً معیشت وتجارت ، تبلیغ و جہاد،درس وتدریس ،شعر وشاعری ، طب وجراحت ،کاشتکاری ودستکاری ،تعلیم وتعلم میں پیش پیش ہوتیں تھیں مگر اسلامی معاشرہ ان کی راہ میں حائل نہیں ہوا،دور حاضرمیں مسلمان عورت کے لئے جو قیودات بنا دیئے گئے ہیں اور جیسے اسے گھر کی چار دیواری میں باندھ کر رکھا گیا ہے ،رسول اللہ ﷺکا تشکیل دیا ہوا معاشرہ اس سے یکسر خالی نظر آتا ہے اور زندگی کے ہر موڑ پر عورت ومرد شانہ بشانہ متحرک نظر آتے ہیں ۔چا ہیے وہ موڑ یا میدا ن آسان ہو یا مشکل ہر جگہ اس نے حتی المقدور ہر شعبہ زندگی میں اپنی حدود و دائرۂ کار میں رہتے ہوئے نمایاں خدمات سرانجام دیں۔
صحابیات رضی اللہ عنھم اجمعین کا معاشی جدوجہد :
اگر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک دور کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ صحابیات رضی اللہ عنہن نے امور خانہ داری کے ساتھ ساتھ ضرورت پڑنے پر گھر سے باہر کے کاموں کو بھی سرانجام دیا ہے اور ان کے اس عمل پر حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں منع نہیں فرمایا بلکہ ان کی حوصلہ افزائی فرمائی ہے اور اپنے گھر کی دیکھ بھال پر انہیں دوہرے اجر کی بشارت دی ، عورت کی معاشی سرگرمیوں کے بارے میں احادیث مبارکہ ودیگر روایات بکثرت و بصراحت ملتی ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ
’’میری خالہ کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی (طلاق کے بعد ان کو عدت کے دن گھر میں گزارنے چاہئے تھے لیکن انہوں نے عدت کے دوران ہی میں) اپنے کھجور کے چند پیڑ کاٹنے کا ارادہ کیا تو ایک صاحب نے سختی سے منع کیا (کہ اس مدت میں گھر سے نکلنا جائز نہیں ہے) یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں استفسار کے لئے گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھیت جاؤ اور اپنے کھجور کے درخت کاٹو۔ اس رقم سے بہت ممکن ہے تو صدقہ و خیرات یا کوئی بھلائی کا کام کرسکو‘‘۔ (مسلم :1483، کتاب الطلاق)
ان الفاظ کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی خالہ کو انسانیت کی بہی خواہی اور فلاح و بہبود کا درس دیا جو ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شریعت اسلامیہ عورت کو اس قابل دیکھنا چاہتی ہے کہ وہ اپنے جیسے دوسرے انسانوں کی خدمت کرسکے اور اس کے ہاتھوں بھلے کام انجام پائیں نہ کہ وہ اپنی معاشی حاجات کو پورا کرنے کے لئے دوسروں کی مرہون منت ہو۔ ذیل میں ان صحابیات کا مختصر تذکرہ کیا جاتا ہے جو کسی نہ کسی حد تک معاشی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہیں۔
حولاؓ ءکا عطر کی تجارت :حضرت حولاء ؓ عطر کی تجارت کرتی تھیں اور گھروں میں بھی عطر فروخت کرتیں (الاصابہ )
دستکار صحابیہ ؓ:عبداللہ بن مسعود ؓ کی اہلیہ زینب بنت ابی معاویہ دستکاری کرتی تھیں جو کچھ کماتی تھیں اپنے شوہر اور ان کی اولاد پر خرچ کردیتی تھیں(الاصابہ)
شادیوں میں گانے والی صحابیہ ؓ:ایک انصاری صحابیہ ارنب انصاریہؓ کو بہت سے گیت یاد تھے حضور ﷺ نے ان کو انصاری کی بعض شادیوں میں گیت گانے کی اجازت دے دی تھی (الاصابہ)
بیوٹی پالر کرنےوالی صحابیہ ؓ:حضرت بسرہ ؓ بنت صفوان مکہ میں عورتوں کے معاملات میں مشہور تھیں ۔ان کو زیب وزینت کرنے (میک اپ)میں کمال دسترس رکھتی تھیں (الاصابہ )
کھال بنانا اور دؓباغت سے وابستہ صحابیہ ؓ:حضرت سودہ ؓ طایف کی کھالیں بنایا کرتی تھیں اور اس سے جو آمدنی ہوتی تھی اسے راہ خدامیں خرچ کردیتی تھیں ۔ حضرت زینب بنت جحش ؓ خود اپنے دست بازو سے روزی کماتی تھیں وہ فن دباغت جانتی تھیں اس سے جو آمدنی ہوتی خداکی راہ میں صدقہ کردیتی تھیں ۔
حضرت خدیجہ ؓ آپ ﷺ کی زوجیت میں آنے سے قبل بیوگی کے ایام خلوت گزینی میں گزار رہی تھی اور اپنا کچھ وقت خانہ کعبہ میں گزارتی اور کچھ وقت اس زمانہ کی معزز کاہنہ عورتوں میں صرف کرتی اور اس زمانے کے انقلابات پر بحث مباحثہ کرتی ۔انکے والد عرب کے بہت بڑے تاجر تھے لیکن جب ضعیف ہوگئے اپنی پوری تجارت حضرت خدیجہ ؓ کے سپرد کردی اور خدیجہ ؓ نےاپنے حسنِ تدبیر سے اور بھی ترقی سے نوازا او ر ایک ہی وقت میں بیسوں عرب ،یہودی اور عیسائی غلام انکے لئے کام کرتے تھے ،رسول اللہ ﷺ کے عقد میں آنے کے بعد اپنی تمام مال ودولت اسلام اور رسول اللہ ﷺ کے لئے وقف کردی ۔ (جاری ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button