سیاستکالم نگار

دھرنے ،لانگ مارچ یا گرینڈ ڈائیلاگ

ابھی چند دن پہلے ہی ایک پروگرام دیکھ رہی تھی. اس پروگرام کے مہمانِ خصوصی ہمارے ملک کے سابقہ وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی تھے

عریج اقبال

عریج اقبال نمل اسلام آباد میں شعبہِ صحافت کی طالبِ علم ہیں۔ مختلف سیاسی اور سماجی موضوعات پر کالم اور مضامین بھی لکھتی ہیں۔ پاکستان میں خواتین کے مسائل پر گہری نظر رکھتی ہیں۔

 

ابھی چند دن پہلے ہی ایک پروگرام دیکھ رہی تھی. اس پروگرام کے مہمانِ خصوصی ہمارے ملک کے سابقہ وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی تھے. وہ اس ملک کے سینئر ترین اور شہرت رکھنے والے سیاستدان سمجھے جاتے ہیں. انہوں نے اس پروگرام میں ایک بہت ہی اہم بات کی. انہوں نے اس میں گرینڈ ڈائیلاگ کی بات کی جس میں سیاسی اور عسکری قیادت بیٹھے اور ایک دوسرے کے جو بھی مسئلے مسائل ہیں ایک دوسرے سے مل بیٹھ کر حل کریں.

سیاسی اور عسکری قیادت دونوں ہی ملک کا اچھا سوچتے ہیں کوئی بھی بُرا نہیں چاہتا. جہاں تک بات ہے عسکری قیادت کی تو انکی سیاست میں مداخلت کا سب کو علم ہے. ایک لمبی تاریخ ہے کہ کب کیسے عسکری قیادت نے سیاست میں اپنا کردار ادا کیا. یہ مداخلت اب بند ہونی چاہیے. ہمارے ملک کو اس مداخلت کا بہت نقصان پہنچا ہے. مگر اب حالات کو دیکھا جائے تو یوں ہی لگتا ہے کہ عسکری قیادت اب اپنے آپ کو سیاست سے دور کرتی جا رہی ہے. تمام ملکی فیصلوں میں صرف مشورہ ہی دیتی ہے اصل فیصلہ تو ملک کے وزیراعظم اور کابینہ کا ہوتا ہے. اب حکومت کے ہر فیصلے میں فوج حکومت کے ساتھ دکھائی دیتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ انکے اور حکومت کے تعلقات بہتر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں.

اگر سیاسی قیادت کی بات کی جائے تو اس بارے میں بھی سب کو معلوم ہے کہ کیسے سیاستدان الیکشن جیت کر اسمبلی میں آتے ہیں اور ملک کے اہم ترین فیصلوں میں کیا کردار ادا کرتے ہیں. کرپشن اس حد تک ہو چکی ہے کہ اب تو ہر سیاستدان ہی کرپٹ نظر آتا ہے. ہمارے ملک کے سیاسی نمائندوں نے ملک کے معاشی حالات کو کافی حد تک خراب کیا ہے. آج کے دور میں پانی کے مسائل، گیس کے مسائل، غربت، بے روزگاری، بھوک، لاقانونیت، دہشتگردی جیسے مسائل حل نہ ہونا ہماری سیاسی قیادت ہی کی ناکامی ہے.

مسائل دونوں جانب اپنی جگہ موجود ہیں مگر اب بھی اگر ملک ایسے ہی چلا تو اس ملک میں حقیقی تبدیلی کبھی بھی نہیں آئے گی. تبدیلی تب آئے گی جب ہر ادارہ اپنا کام نیک نیتی اور ایمانداری سے کرے گا اور اس کے لیے میں شاہد خاقان عباسی کی بات کے ساتھ متفق ہوں. مگر انہوں نے ایک اور بات بھی کی ہے کہ یہ گرینڈ ڈائیلاگ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی موجودگی میں ہوں اور وہ دونوں کے مابین جو بھی فیصلہ طے پائے اس کے ضامن ہوں. مگر میرے خیال میں یہ گرینڈ ڈائلاگ صرف عسکری اور سیاسی قیادت کے درمیان نہیں بلکہ عسکری قیادت، سیاسی قیادت اور عدلیہ کے درمیان ہونے چاہیے. جو بھی ملک اور قوم کے لئے بہتر ہو وہی قانون سازی کی جائے.

عام عوام کو اب عدالتی فیصلوں پر بالکل بھی یقین نہیں رہا. جو بھی شخص آج کل کورٹ جاتا ہے مجبوری میں ہی جاتا ہے. دل سے وہ یہ بات جانتا ہے کہ اس نظام میں انصاف نہیں مل سکتا.
عدلیہ کا اس گرینڈ ڈائلاگ میں شامل ہونا بہت ضروری ہے. عدلیہ کے ساتھ ساتھ اس ملک کے احتساب کے سب سے بڑے ادارے نیب کو بھی ڈائیلاگ میں شامل کرنا چاہیے. نیب چونکہ احتساب کا ادارہ ہے اور اگر احتساب ٹھیک ہو جائے تو ملک درست سمت میں گامزن ہو جائے گا.

اگر شاہد خاقان عباسی اس فیصلے پر صرف اپنی پارٹی کو ہی قائل کر لیں تو یہ ممکن ہے. یہ دھرنوں اور لانگ مارچ سے نکل کر ملک کے لیے گرانڈ ڈائیلاگ پر زور دیں تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button