طرز زندگیکالم نگار

کیا کیلاش سکندرِاعظم کی نسل سے ہیں؟

وادیِ چترال میں بسنے والا قدیم کیلاش قبیلہ اپنی منفرد تہذیبی، مذہبی اور تاریخی پسِ منظر کی وجہ سے پوری دنیا میں جانا جاتا ہے۔انکی آبادی محض 5 ہزار نفوس پر مشتمل ہے جو کئی سو سالوں سے چترال کی تین وادیوں ، بمبور، رمبور اور بمبوریت میں آباد ہے۔ کیلاش جس مذہب پر عمل پیرا ہیں اسکے بارے میں ماہرین کا خیال ہے

فخرعالم

 

وادیِ چترال میں بسنے والا قدیم کیلاش قبیلہ اپنی منفرد تہذیبی، مذہبی اور تاریخی پسِ منظر کی وجہ سے پوری دنیا میں جانا جاتا ہے۔انکی آبادی محض 5 ہزار نفوس پر مشتمل ہے جو کئی سو سالوں سے چترال کی تین وادیوں ، بمبور، رمبور اور بمبوریت میں آباد ہے۔ کیلاش جس مذہب پر عمل پیرا ہیں اسکے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ قدیم ہندومت کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ اسکے علاوہ انکے مذہبی رسومات کا ایک بڑا حصہ زرتشتیوں سے ماخوذ ہے۔ کیلاش کئی ایک دیوتاؤں پر یقین رکھتے ہیں جن میں ڈیزاؤ، جستر اور مہاندیو شامل ہیں۔ انکی کچھ دلچسپ مگر منفرد روایات ایسی ہیں جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں ۔ مثلاً کیلاشوں کے ہاں قبیلے کے کسی فرد کی موت پر مغموم ہونے کے بجائےجشن منایا جاتا ہے۔ لواحقین کی مالی حیثیت کے مطابق بعض دفعہ یہ جشن کئی روز تک جاری رہتا ہے جس میں تینوں وادیوں سے لوگ شریک ہوتے ہیں اور جنازے کے گرد رقص پیش کیا جاتا ہے۔ پہلے زمانے میں جشن کے بعد مرنےوالے کی لاش ایک مخصوص قبرستان میں تابوت کے اندر رکھ کر بغیر دفن کیے چھوڑی جاتی تھی مگر اب یہ روایت ترک کیا گیا ہے۔ اسی طرح کیلاش خواتین شادی کے بعد اگر کسی دوسرے مرد کیساتھ بھاگ جائے تو اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا بلکہ مرد عورت کے سابقہ شوہر کو اسکی شادی کے اخراجات سے دوگنا زیادہ رقم یا مال دیکر اس عورت سے شادی کرسکتا ہے۔ ان سب دلچسپ رسومات اور طور طریقوں سے قطعِ نظر یہ کیلاش قبیلے کی نسل کے بارے میں سینہ بہ سینہ چلتے آنے والی روایات ہیں جو انہیں اساطیری حیثیت عطا کرتی ہیں۔

کیلاش قبیلہ نے کہاں سے آکر چترال کے پہاڑوں کو اپنا مسکن بنایا، اس بارے میں کئی روایات موجود ہیں۔ البتہ سب سے مشہور روایت جس پر خود کیلاش بھی یقین رکھتے ہیں، یہ ہے کہ وہ سکندرِ اعظم کےفوجیوں کی اولاد میں سے ہیں جو سکندر کے فتوحات کے وقت کسی وجہ سے پیچھے رہ گئے تھے ۔ انکا کہنا ہے کہ وہ پہلےپہل "سیام” نامی جگہ میں آباد تھے اور بعد میں وہاں سے ہجرت کرکے چترال منتقل ہوئے۔ مورخین "سیام” نامی کسی جگہ کے وجود سے لاعلم ہیں۔ البتہ کچھ مورخین کا خیال ہے کہ یہ موجودہ افغانستان کا کوئی علاقہ ہوسکتا ہے۔ کیلاش کے یونانی نسل سے ہونے کے ثبوت کے طور پر انکی جسمانی نین نقش کیساتھ ساتھ ان الفاظ اور رسومات کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے جو انکے اور موجودہ یونانی زبان اور ثقافت میں مشترک ہیں۔ اس روایت کے درست ہونے یا نہ ہونے سے قطعِ نظر یہ مفروضہ دنیا کی نظر میں بہت متاثر کن ہےاور لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس پر یقین رکھتی ہے۔ کچھ سال پہلے طالبان کی طرف سے وادیِ کیلاش پر حملہ ہوا تو برطانیہ کے مشہور اخبار ٹیلیگراف نے "طالبان نے سکندرِاعظم کی اولاد کو ہدف بنایا”کی شہ سرخی کیساتھ خبر شائع کی!اسی طرح یونان کی ایک تنظیم نے وادیِ کیلاش میں اسکول اور میوزیم بھی تعمیر کر رکھےہیں۔

کیلاش قبیلے کے حوالے سے اس لوک روایت کے برعکس موجودہ دور میں جدید تحقیق کی مدد سے انکی نسل کی صحیح شناخت کے بارے میں اہم معلومات سامنے آئے ہیں۔ 2015ء میں کیلاش سے چند لوگوں کے ڈی این اے پر تحقیق کی گئی تو انکی نسل کے بارے میں معمہ بڑی حد تک حل ہو گیا۔ محققین کو اس وقت حیرت ہوئی جب کیلاشوں کے یہ ڈی این اےسائبیریا میں ملنے والے 24000 ہزار سال پرانے ڈھانچوں کے ڈی این اے سے مماثل پائے گئے۔ایک دوسری قدیم آبادی جس سے کیلاش جین مشابہہ پائی گئی، روس میں موجود دریائے وولگا کے کنارے آباد یمنایا تہذیب کی تھی جو3300 سے 2600 قبل مسیح کے دوران پروان چڑھی ۔اپنی اس تحقیق کی بنیاد پر ماہرین نے کیلاشوں کو قدیم شمالی یوریشیائی نسل سے قرار دیاہےجو کہ آریائی اقوام کی ہی ایک شاخ ہے۔ یہ لوگ بعد میں کسی نامعلوم وجوہات کی بنا پر ہجرت کرکے یہاں آباد ہوئے ۔ان تازہ انکشافات کے بعد اس بات کی تردید ہوئی کہ کیلاش یونانی النسل ہے۔ چترال سے تعلق رکھنے والے تاریخ دان ہدایت الرحمان کا کہنا ہے ، "اگرچہ ان (کیلاش ) کا سکندرِ اعظم کی نسل سے ہونے کا یہ مفروضہ صدیوں سے کیلاش قبیلے میں رائج ہے لیکن حالیہ ڈی این اے ٹیسٹ سے اس بات کی تصدیق نہ ہوسکی۔”

اس تحقیقی انکشاف کے باوجود کیلاشوں کی ایک بڑی تعداد اس بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہے۔ وہ اب بھی ان روایات پر یقین رکھتے ہیں جو انکے آباؤاجداد کی طرف سے لوک گیتوں اور داستانوں میں انہیں منتقل ہوتی آرہی ہیں اور جس میں انکا تعلق سکندرِ اعظم کی فوج کے اس پسماندہ گروہ سے بتایا گیا ہے جو دنیا کو فتح کرنے نکلنے والے اس قافلے سے پیچھے رہ گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button