خواتین کا صفحہ

ملازمت پیشہ خواتین اور انکے مسائل

گھر کی زینت سمجھی جانے والی عورت کے لیے عام تاثر یہی پایا جاتا ہےکہ یہ چار دیواری کے اندر ہی اچھی لگتی ہے۔ قدامت پسند معاشروں میں ایک عورت کا کام سجنا، سنورنا، بچے پیدا کرنا اور تمام عمر گھر کے کام کاج میں مصروف رہنا سمجھا جاتا ہے

 

ماریہ اورنگزیب

ماریہ اورنگزیب نمل اسلام آباد میں شعبہِ صحافت کی طالبِ علم ہیں۔ مختلف سیاسی اور سماجی موضوعات پر کالم اور مضامین بھی لکھتی ہیں۔ پاکستان میں خواتین کے مسائل پر گہری نظر رکھتی ہیں

 

گھر کی زینت سمجھی جانے والی عورت کے لیے عام تاثر یہی پایا جاتا ہےکہ یہ چار دیواری کے اندر ہی اچھی لگتی ہے۔ قدامت پسند معاشروں میں ایک عورت کا کام سجنا، سنورنا، بچے پیدا کرنا اور تمام عمر گھر کے کام کاج میں مصروف رہنا سمجھا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ زندگی کے دوسرے سنجیدہ سماجی، معاشی اور معاشرتی معاملات سے اسے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے. زمانہ طالب علمی میں ترقی پسند لوگوں نے ہمیں بتایا کہ عورت کی نجات اقتصادی خودمختاری میں پوشیدہ ہے، چنانچہ ہم نے تہیہ کرلیا کہ یونیورسٹی کی تعلیم مکمل ہوتے ہی ہمیں ملازمت ضرور کرنی ہے۔ جب ہاتھ میں ڈگری لے کر ملازمت کی تلاش میں نکلے تو ہوش ٹھکانے آگئے-
معلوم ہوا کہ ملازمت کے حصول کے لیے سفارش اور تعلقات کا ہونا ضروری ہے مگر کسی طرح نوکری مل جائے تو پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ گھر والوں کو راضی کرنا اور انہیں یہ یقین دلانا ہے کہ جہاں نوکری ملی ہے وہ جگہ محفوظ ہے۔

گھر والوں کی عام طور پر یہی خواہش ہوتی ہے کہ لڑکی کی جلد سے جلد شادی ہوجائے اور اگر اسے نوکری کرنا ہی ہے تو شادی کے بعد کرے، بعض صورتوں میں گھر والے تو نوکری کی اجازت دے دیتے ہیں لیکن جب رشتہ آتا ہے تو سسرال والے یہ شرط رکھ دیتے ہیں کہ شادی کے بعد لڑکی کو ملازمت چھوڑنا ہوگی۔ میں سمجھتی ہوں کہ ملازمت پیشہ خاتون کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے اور فرض کریں کہ نوکری کے لئے تو اجازت مل بھی گئی ہے تو اسکا مطلب یہ نہی ہے کہ خواتین کو پیش آنے والے مسائل کم ہو گئے۔

دراصل یہی سے کئی ایک مسائل شروع ہوتے ہیں۔ میرے نزدیک ملازمت پیشہ خاتون کا سب سے بڑا مسئلہ نوکری کیلئے آنے جانے کا ہوتا ہے۔ ہماری کوئی بھی حکومت ابھی تک خواتین کے لیے ایک الگ پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم نہیں بناسکی ہے جس کی وجہ سے انہیں بہت سے مسائل سے دوچا ہونا پڑتا ہے۔

اس ساری صورتحال سے نمٹ کر جب وہ دفتر پہنچتی ہے تو مرد کولیگز ایکسرے مشین کی طرح اپنی آنکھوں سے کام لے رہے ہوتے ہیں۔ کوئی ذو معنی جملے بولتا ہے تو کوئی فضول لطیفے سنانا چاہتا ہے۔ اسی طرح مردوں کی حاکمیت کے باعث ہر وقت اسے جنسی تفریق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسا رویہ خواتین کے بارے میں ہمارے معاشرے کی عمومی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس معاشرے نے خواتین کو کام کرنے کی اجازت تو دے دی ہے لیکن ان کے کام کو اور انہیں عزت دینا نہیں سیکھی۔ حقیقت یہی ہے کہ معاشرتی رویوں کی وجہ سے عورت کو مرد کے مقابلے میں زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خواہ اس کا تعلق ایلیٹ یا پسماندہ کسی بھی طبقے سے ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button