خواتین کا صفحہکالم نگار

اقبال تیرے دیس کا کیا حال سناؤں

آج قلم ٹھاتے ہوئے دل عجیب سی افسردگی میں ڈوبا ہوا ہے کہاں سے شروع کروں کہاں سے نہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا اقبال میں تجھے کیا بتاؤں اس قوم نے اپنا اقبال کس طرح کھو دیا

 

عجوا رشید

 

محمودوں کی صف آج ایازوں سے پرے ہے

جمہور سے سلطانی جمہور ڈرے ہے
تھامے ہوئے دامن ہے یہاں پر جو خودی کا
مر مر کے جئے ہے کبھی جی جی کے مرے ہے

آج قلم ٹھاتے ہوئے دل عجیب سی افسردگی میں ڈوبا ہوا ہے کہاں سے شروع کروں کہاں سے نہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا اقبال میں تجھے کیا بتاؤں اس قوم نے اپنا اقبال کس طرح کھو دیا ۔
یہ لکھتے ہوئے میرے دماغ میں قصور کی زینب ،کشمور کی ننھی چار سال کی بچی ، موٹروے پر بے یارومددگار اپنے دو بچوں کے ساتھ ایک ماں ، چند سال پہلے مردوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنانے والا شخص ، یہ سب میری نظروں میں گھوم گئے۔ اس ملک کی روش دیکھ کر اقبال کی روح تڑپتی ہوگی، قائد کی روح تڑپتی ہوگی کیا یہ وہ پاکستان ہے جو ہم نے آزاد کروایا ، کیا یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے کیا یہ اسلام کے نام پر لیا گیا ملک ہے جس میں حضرت عمر بن عبدالعزیز ساری رات زکوۃ لے کے پھرتے کہ شاید کوئی لینے والا ہو اور کوئی محتاج نہ ملتا۔ اب چند لقموں کے لیے لوگوں کو لقمہء اجل کر دیا جاتا ہے ۔

قصور کس کا ہے ان سیاستدانوں کا جو گرمیوں میں اے سی اور سردیوں میں ہیٹر والے کمرے میں بیٹھ کر ہم پر حکم صادر کرتے ہیں یا ان مجرموں کا جو کبھی اپنے نفس اور کبھی اپنے پیٹ کی بھوک مٹانے کے لیے جرائم کرتے ہیں ۔ کیا یہ وہی ملک ہے؟ جس کو آزاد کرانے کے لئے ہمارے بزرگوں نے خواب دیکھے اور دن رات ایک کر کے ہمیں آزادی دلوائی اور آج اس ملک کے نوجوانوں نے چند فالورز اور پیسوں کے لیے اپنا اقبال بیچ دیا۔

نئے سال کے شروع میں ہر بار ہم اپنے سے عہد کرتے ہیں کہ اس بار ہم بدل جائیں گے جیسے سال نہیں بدلہ ہو بلکہ شاید کوئی جادو کی چھڑی چلی ہو کہ ہمارا ضمیر بدل جائے۔ ہم سب کی نیو ایئر ریزولیوشن اپنی ذات تک محدود رہتی ہے۔ کبھی ہم اپنا موٹاپا کم کرنا چاہتے ہیں کبھی ہمیں پیسہ کمانا ہوتا ہے ، اور کبھی ہمیں اپنے لئے کوئی ہمسفر ڈھونڈنا ہوتا ہے ، ہم نے کبھی نہیں سوچا کہ ہمیں اپنے ملک کے لیے کچھ کرنا ہے ۔

بدقسمتی سے ہم سوچتے ہیں کہ کوئی جادو کی چھڑی چلے اور ہمارا ملک ویسا ملک بن جائے جیسے ہمارے بزرگ دیکھنا چاہتے تھے ہماری قوم کا اقبال مل جائے جو ہم نے کھو دیا ہے ، آئیے ایک بار ہم اپنے ملک کے لئے سوچتے ہیں۔ شروع اپنے آپ سے کرتے ہیں اپنے ضمیر سے شروع کرتے ہیں کہ آئندہ آپ نے اقبال کو کھونے نہیں دیں گے ، اور ہم شرمندگی سے نہیں بلکہ فخر سے بتا سکیں کہ اقبال تیرے دیس کا اب حال ایسا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button