سیاست

پی-ڈی-ایم کا ٹوٹا پھوٹا اتحاد

دسمبر کے مہینے میں ملک کا موسم شدید سردی کی لپیٹ میں ہے مگر دوسری جانب ملک کی سیاسی صورتحال خاصی گرم دکھائی دے رہی ہے.

عریج اقبال

دسمبر کے مہینے میں ملک کا موسم شدید سردی کی لپیٹ میں ہے مگر دوسری جانب ملک کی سیاسی صورتحال خاصی گرم دکھائی دے رہی ہے. موجود سیاسی صورتحال کو دیکھ کر خان صاحب کے 2013 کے اسلام آباد دھرنے کے بیانات میرے ذہن میں تازہ ہو جاتے ہیں.

عمران خان صاحب 2013 کے دھرنوں میں جب استعفوں کی بات کیا کرتے تھے تو اس وقت مسلم لیگ ن کی حکومت خاصی گھبراہٹ کا شکار نظر آتی تھی مگر آج حالات اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتے ہیں. ن لیگ کے مقابلے میں تحریک انصاف خاصے اطمینان کیساتھ ہے. عمران خان نے تو اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو اپوزیشن کے استعفے قبول کرنے کا بھی کہ دیا ہے. اِس پُراعتمادی کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟ کیا عمران خان کو کسی قسم کی کوئی گھبراہٹ نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ اپنے 2013 کے دھرنوں سے اس کا تجربہ پہلے ہی حاصل کر چکے ہیں؟ شاید انہیں اس بات کا بخوبی علم ہو چکا ہو کہ استعفوں اور دھرنوں سے حکومتیں نہیں گرائی جاتیں.

پی-ڈی-ایم کی موجودہ صورتحال کو دیکھ کر ان پر ترس آتا ہے. یہ سب وہ جماعتیں ہیں جو کئی سالوں سے اس ملک پر حکومت کرتی آ رہی ہیں. ہمیں تو انکی یہ سمجھ نہیں آ رہی کے یہ ایسے فیصلے کیوں کر کر رہے ہیں کہ جس پر بعد میں انکو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے. چاہے استعفوں کی بات ہو یا پھر لانگ مارچ انکا یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار اتحاد زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا. کیونکہ نہ تو پیپلزپارٹی استعفوں کے حق میں ہے نہ ہی حکومت گرانے کے کیونکہ اس میں انکا بھی نقصان ہے.

مجھے تو مسلم لیگ ن کی سینئیر قیادت پر حیرت ہوتی ہے کہ وہ اپنا مذاق کیوں کر بنا رہے ہیں. مسلم لیگ ن کے ووٹرز نہ ہی مولانا فضل الرحمن اور نہ ہی بلاول بھٹو زرداری کو کبھی قبول کریں گے. آج جو مریم نواز اور مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی کے گن گا رہیں ہیں اس سے پی ٹی آئی کا بیانیہ اور بھی زیادہ مضبوط ہو گیا ہے. دونوں جماعتوں کو اس بات کا علم ہے کہ وہ عمران خان کی حکومت کو گرا نہیں سکتے.

آج کل سوشل میڈیا پر مسلم لیگ ن اور مریم نواز کو پہلے پیپلزپارٹی کی خلاف اور اب انکے حق میں نعرے بازی کی وجہ سے کافی تنقید کا سامنا ہے.
پیپلزپارٹی کا استعفوں سے پیچھے ہٹ جانا تو طے تھا بس اب مسلم لیگ ن کی جانب سے ردِ عمل کا انتظار اور دیکھنا یہ ہے کہ کہ اب یہ ٹوٹا پھوٹا اتحاد کب تک چلتا ہے. مولانا فضل الرحمن کی پارٹی سے ایک دھڑے کج علیحدگی نے انہیں بہت بڑا دھچکا دیا ہے جس کی وجہ سے وہ ابھی تک خاموش ہیں. کہیں مولانا فضل الرحمن اپنی پارٹی کی تقسیم کا ذمہ دار عسکری قیادت کو تو نہیں قرار دے رہے؟ کیا اب انکی نظر میں مولانا اختر شیرانی کو بھی فوج نے تو نہیں استعمال کیا؟ بہرحال مجھے مولانا فضل الرحمن کی سیاست کی قلم ٹوٹتی اور دوات ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے. اب دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی ایم کا الیکشن کا کیا لائحہ عمل ہے لیکن جو بھی لائحہ عمل ہوگا سب جانتے ہیں کہ اسکا حاصل کچھ بھی نہیں ہوگا کیونکہ جس ریلیف اور ڈیل کی وہ توقع کر رہے ہیں، وہ انکو ملتی نظر نہیں آتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button