تعلیمسیاستلوئیر چترال

تحقیق و تجزیہ

یونیورسٹی آف چترال کی تعمیر اور مردم شماری کے اعداد و شمار

فخر الدین اخونزادہ

 

مردم شماری 2017 کے مطابق چترال کی کل آبادی 447,362 ہے. ان میں سے 278،122 یعنی 62 فیصد آبادی موڑین چترال ضلع میں رہ رہی ہے اور 169،240 یعنی 38 فیصد یا ایک تہائی لوگ تورین چترال ضلع میں قیام پزیر ہیں. مردم شماری میں چترال اور دروش سے منسلک اور قرب و جوار کی یوسیز کی آبادی کو اس طرح دیاگیا ہے۔
چترال ٹاؤن (بشمول دنین اور یوسی -۲): 59838
کوہ یوسی : 18730
بروز یوسی: 19021
ایون یوسی: 28182
دروش ٹاؤن( دو یوسیز ) : 43564

ان یوسیز اور ٹاؤنز کی آبادی کو تجزیے کے لیے اس لیے چنا گیا ہے کہ چترال یونیورسٹی کو دو مجوزہ تعمیر اتی سائٹس میں سے کسی ایک مقام پر تعمیر کیا جاۓ تو صرف ان علاقوں کے بچوں کے لیے فاصلہ کم ہوتا ہے اوریہ بچے ہاسٹل کی ضرورت کے بغیر اپنے تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔اگر یونیورسٹی چترال ٹاؤن کے اندر تعمیر کیا جائے تو چترال ٹاون ،کوہ ، بروز، اور ایون یوسییز کے لئے سہولت ہے۔ ان ٹاونز او ر یوسیز کی مجموعی آبادی اوپر دی گئی حکومت کی مردم شماری کے مطابق 125771 ہے یعنی سوا لاکھ سے زائد لوگوں کیلئے سہولت ہے جبکہ یونیورسٹی سید آباد میں تعمیر کرنے کی صورت میں چترال ٹاون ، دروش ٹاون، بروز اور ایون یوسی کو فائدہ ہوگا ان علاقوں میں مردم شماری کے مطابق مجموعی طور پر 150605ابادی یعنی ڈیڑھ لاکھ نفوس قیام پزیر ہیں۔اوپر دیے گئے اس اعداد و شمار کے مطابق یونیورسٹی کو سید آباد میں تعمیر کرنے سے سنگور کے مقابلے میں پچیس ہزار مزید لوگوں کو فائدہ ہوگا۔

تورین چترال ضلع کے بچوں کو یونیورسٹی چترال ٹاون میں بنے یا سید آباد میں دونوں صورتوں میں ہاسٹل میں رہنا ہے۔ دونوں مجوزہ سائٹس میں یونیورسٹی کے قیام سے ان کے اخراجات میں کوئی خاص فرق نہیں پڑ رہا ہے۔ یہ بات اس ضلع کے سنجیدہ طبقے کو بخوبی علم ہے۔ یہی حال ارندو ، شیشی کوہ اور تورین گرم چشمہ کے یوسیز کا ہے ۔ ان علاقوں میں رہنے والے اکثریتی آبادی کو دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں پڑرہا۔ البتہ سید آباد میں تعمیر ہوجائے تو زرین شیشی اور عشریت کے چند گاوں کے بچوں کے لیے آنا جانا ممکن ہے اور سنگور میں تعمیر کیا جائے تو شغور یوسی کے زیرین دیہات کے بچوں کے لیے آسانی ہے۔ یعنی دونوں صورتوں میں فائدہ لینے والے بچوں کی تعداد برابرہے۔ یونیورسٹی کو سید آباد میں رکھنے سے کوہ یوسی کے بالائی دیہات کے بچوں کے لیے فاصلہ زیادہ ہوگا اور سنگور میں رکھنے سے ایون یوسی میں واقع کلاش ویلیز کے لوگوں کے لیے فاصلہ دور پڑے گا۔یہاں بھی صورت حال ایک جیسی ہے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چترال ٹاؤن میں اس وقت ایک میل اور ایک فیمل ڈگری کالج ہیں۔ یہ ادارے بھی یونیورسٹی کی طرح 16 سالہ تعلیم کی ڈگری دے رہے ہیں۔ دونوں اداروں میں پندرہ ڈیپارٹمنٹس ہیں ۔ گزشتہ سال ان دو کالجوں میں ۱۲ سو سیٹوں کے لیے ۱۸ سو بچوں نے درخواست دی تھی۔ جبکہ یونیورسٹی کے کئ ایک ڈیپارٹمنٹز کو اپنے سیٹوں کو مکمل کرنے کے لیے بار بار اشتہار دینا پڑا۔ اس سے واضح ہوجاتا ہےکہ چترال ٹاون کے لوگ کالج کی سہولت میسر ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی کی ضرورت کم محسوس کرتے ہیں ۔ جبکہ دروش ٹاون میں کوئی میل یا فیمل کالج نہیں ہے۔ یونیورسٹی دروش اور چترال ٹاون کے درمیاں رکھنے سے یہاں کے بچوں کے لیے صرف یہی ایک واحد اپشن ہوگا۔ اس ادارے سے فائدہ لینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوگا- اس تجزیہ کے نتیجے سے واضح ہوا۔ کہ سید آباد میں یونیورسٹی تعمیر کرنے سے سنگور کے مقابلے میں موڑین ضلع کے ذیادہ بچوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔ یہ جگہ موڑین چترال ضلع کی ۵۵ فیصد ابادی کے قریب ہے۔ ساتھ ہی چترال ٹاون کے مقابلے میں ادھر ضرورت بھی زیادہ ہے۔ چترال ٹاوں کے بچوں کے ساتھ اور بھی اپشنز ہیں جبکہ دروش اور منسلکہ دیہات کے بچے فی الحال محروم ہیں۔ سنگور میں رکھنے سے دروش ٹاون کی 43564 آبادی اور اس پاس کے دیہات سے یونیورسٹی مکمل طور پر ناقابل رسائی فاصلے میں پڑے گی۔ سید آباد مین ورڈ میں واقع ہونے کی وجہ سے آنے والے دنوں میں روڈ کی بہتری کے ساتھ کوہ اور عشریت یوسیز کے سارے بچوں کے لیے ہاسٹل کی ضرورت کے بغیر تعلیم تک رسائی ممکن ہے ۔ اتنے فاصلے میں ہر یونیورسٹی بس کی سہولت دیتی ہے۔ اگر نہیں بھی دی تو یہ عام ٹریفک کا روڈ ہے۔ جہاں سے ہرچند منٹ میں پرائویٹ گاڑیاں گزرتی ہیں۔ اس تحقیق کا نتیجہ ایسے کسی دعوے کے ساتھ اتفاق نہیں کرتا جس میں مفروضوں کی بنیاد پر سنگور کو زیادہ بچوں کے لیے فائدہ مند دکھایا گیا ہو۔

اوپر دیئے گئے ان حقائق کو ٹھکرا کرکسی گمنام جیولوجسٹ کی رپورٹ پر یونیورسٹی کی تعمیر کیلئے چترال ٹاون کےاندر مین روڈ سے دورجگے کا انتخاب کیا گیا اور یونیورسٹی کو اکثریتی لوگوں کے مفاد میں چترال ٹاون سے صرف بیس منٹ کے راستے میں لانے کی لچک نہیں دکھائی گئی تو یہ چترال کی تاریخ کا سب سےبڑا خودغرضانہ فیصلہ ہوگا ۔ اسے تعلیمی پروجیکٹ یعنی یونیورسٹی کی بجائے ان لوگوں کا ذاتی کاروبار سمجھنا مناسب ہوگا جو اس کو اپنے ٹاؤن کے اندر اور اپنے گھر کے قریب تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ جو مجموعی فائدے کے بجائے صرف ذاتی فائدے کو ترجیح دیتے ہیں۔ایسی صورت میں پی ٹی آئی کی حکومت جو اپنے کھاتے میں گزشتہ ۷ سالوں میں چترال میں صرف یہی ایک میگا پروجیکٹ دیکھا رہی ہے اس غلط فیصلے سے موڑین ضلع کی اکثریتی آبادی کو منہ دکھانے کے بھی قابل نہیں رہے گی۔

گزارش ہے کہ اس پوسٹ کو شیئر کریں تاکہ چترال کے عوام یونیورسٹی انتظا میہ کے ہاتھوں گمراہ ہونے سے بچ جائے اور ان کو درست معلومات ملیں، اس سے شاید چترال یونیورسٹی انتطامیہ کو بھی صحیح تحقیق کے بعد رپورٹ بنانے کی توفیق ہوگی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button