تاریخ اور ادبکالم نگار

جغرافیہ کی تاریخ

مذکورہ سلسلہ ہائے کوہ کے بارے ماہرین ارضیات یہ نظریہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں

گل مراد حسرت

مذکورہ سلسلہ ہائے کوہ کے بارے ماہرین ارضیات یہ نظریہ پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ زمین کی تہہ تقریبا نو بڑے اور متعدد چھوٹے ٹکڑوں میں منقسم ھے ارضیاتی زبان میں ان ٹکڑوں کو پلیٹ کہا جاتا ہے یہ پلیٹ اکثر حرکت کرتی رہتی ہیں اور جب یہ آپس میں ٹکراتی ہیں تو طویل پہاڑی سلسلے وجود میں آتے ہیں زلزلے بھی ان ٹکراو سے آتے رہتے ہیں ان ماہرین کے مطابق یہ ریجن براعظموں کے ٹکراو کا وہ علاقہ ہے کہ جس کے نتیجے میں ہمالیہ – قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلے وجود میں ائے اس سے پہلے یہ علاقہ ایک سمندر جس کو TETHYA SEA کا نام دیا گیا ہے میں ڈوبا ہوا تھا اس سمندر کے شمال میں براعظم یوریشیا اور جنوب میں گونڈوانا لینڈ یعنی برصغیر پاک و ہند- آسٹریلیا- افریقہ- جنوبی امریکہ اور انٹارکٹکا واقع تھے اس وقت دنیا صرف ان دو براعظموں پر مشتمل تھی –

رفتہ رفتہ جنوب کی طرف سے انڈو آسٹریلین پلیٹ اور شمال کی طرف سے یوریشیا پلیٹ حرکت کرکے ایک دوسرے سے ٹکرائے تو یہ پہاڑی سلسلے اوپر کی طرف اٹھنے لگے لیکن یہ رفتار چند سینٹی میٹر سالانہ سے زیادہ نہ تھی تاہم ڈیڑھ کروڑ سال تک وہ موجودہ بلندی تک پہنچ گئے اور اس کی جگہ جو سمندر تھا وہ رفتہ رفتہ کم ہوتا گیا اور پھیر خشک ہوگیا – اس طرح بارش – برف – گلیشئیر- اور چشموں ندیوں کے پانی کے تراش کے عمل کے نتیجے میں دنیا کی بلند ترین چوٹیاں عمل میں ائیں نیز پہاڑوں کے درمیان گہری وادیاں بنتی چلی گئیں اور جو کھائیاں بنی ہوئ تھیں ان میں دریا روان ہوئے

 جاری……………

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button