نیا اضافہ

شکریہ اے کے ڈی این

آغاخان گرلز ہاسٹل میں 28 بستروں پر مشتمل جدید COVID-19 ایمرجنسی رسپانس سنٹر کا افتتاح
کورونا ٹیسٹنگ مشین بھی جلد دستیاب ہوگی۔
رپورٹ(فخرعالم) آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان کی طرف سے بونی میں قائم آغاخان گرلز ہاسٹل میں 28 بستروں پر مشتمل جدید COVID-19 ایمرجنسی رسپانس سنٹر کا افتتاح کیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں وزیراعلیٰ کے معاؤنِ خصوصی وزیر زادہ، ڈی سی او اپر چترال، ڈی پی او اپر چترال، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر، پریذیڈنٹ اسماعیلیہ ریجنل کونسل برائے اپر چترال سمیت AKHSP کےنمائندے، ڈاکٹرز اور علاقے کے دوسرے عمائدین نے شرکت کی۔ خطیر لاگت سے بننے والے COVID-19 ایمرجنسی رسپانس سنٹر کورونا کی وبا سے نمٹنے کیلئے قائم کیا گیا ہے جس میں وائرس کا شکار انتہائی نگہداشت کے حامل مریضوں کو جدید سہولیات فراہم کیے جائینگے۔ ہسپتال میں ونٹیلیٹرز مشینوں کی سہولت بھی موجود ہے۔ تقریب میں بتایا گیا کہ آغا خان ہیلتھ سروس اس ہسپتال کیلئے بیرونِ ملک سے ایک ٹیسٹنگ مشین بھی برآمد کر رہا ہے جو جولائی تک چترال پہنچے گی جس کے بعد روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں سیمپلز کا ٹیسٹ پشاور بھیجنے کے بعد چترال میں ہی کیے جائینگے۔ وزیرِ اعلیٰ کے معاؤنِ خصوصی وزیر زادہ نے کہا کہ ٹیسٹنگ مشین کی دستیابی AKHSP کی جانب سے چترال کے لیے گران قدر تحفہ ثابت ہوگا۔ ڈی سی او اپر چترال شاہ سعود نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کورونا کے پھیلاؤ کی روک تھام کیلئے اپر چترال کے عوام بالخصوص اسماعیلی کمیونٹی کی خدمات اور حکومتی مشینری سے انکی معاؤنت کو سراہا۔ پریزیڈنٹ اسماعیلیہ کونسل برائے اپ چترال امتیاز عالم کا کہنا تھا کہ AKDN کی تمام ایجینسیز علاقے کے لوگوں کی خدمت کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔ یاد رہے کہ COVID-19 ایمرجنسی رسپانس سنٹر بونی میں 11 ڈاکٹرز اور 20 نرسز پر مشتمل تربیت یافتہ عملہ کورونا کے مریضوں کی جدید طریقے سے نگہداشت کو یقینی بنائے گا۔
اس موقع پر اے کے ایچ ایس پی کے خیبر پختونخوا پنجاب ریجن کے ریجنل ہیڈ معراج الدین نے بھی مزید تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ہسپتال میں 18 بستر ماڈریٹ کیسز جبکہ 10 بستر انتہائی درجے کے کیسز کیلئے مختص کیے گئے ہیں جنکے لیے وینٹلیٹرز مشین اور وارڈ میں ہوا کا مناسب دباؤ برقرار رکھنے کیلئے جدید سازوسامان نصب کیے جائینگے۔ اسی طرز کے بیس بیس بستروں پر مشتمل دو اور ہسپتال گرم چشمہ اور مستوج میں بھی جلد کام کا آغاز کرینگے۔ ان ہسپتالوں پر اٹھنے والی خطیر لاگت براہِ راست امامت فنڈ سے ادا ہو رہی ہے

شکریہ اے کے ڈی این

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button