طرز زندگی

فسبکی صحافی

تحریر: زارولی زاہد

صحافت ایک مقدس پیشہ اور اس پیشے سے وابستہ لوگ معاشرے کے کان اور آنکھ ہونے کی حیثیت سے معاشرے میں انتہائی معزز گردانے جاتے ہیں ۔ صحافی آئینے کی مانند ہوتے ہیں جو معاشرے میں پائی جانے والی ہر اچھائی اور برائی کو اپنی تحریر اور تقریر کے ذریعے سامنے لاتے ہیں۔ معاشرے کے ہر طبقے کی موثر آواز ہونے کی حیثیت سے انہیں سماج میں ایک اہم مقام حاصل ہوتا ہے۔ یہ سماج میں پائی جانے والی خرابیوں، کمزوریوں اور کوتاہیوں کو سامنے لاکر ان کی اصلاح کے لئے راہ ہموار کرتے ہیں۔ پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی میں ایک صحافی کو اپنی ذاتی ، عائلی اور سماجی زندگی کو قربان کرنا پڑتا ہے۔ اس کی نہ رات ہوتی ہے نہ اس کا دن، نہ صبح اور نہی شام۔ حالت جنگ ہو یا امن، گرمی ہو یا سردی، بہار ہو یا خزان، صاف موسم ہو یا بادو باران غرص ہر وقت، ہر موقع اور ہر حال میں صحافی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں مصروف عمل ہوتا ہے۔ جس طرح صحافت ایک ہمہ جہت شعبہ ہے اسی طرح صحافی بھی ایک ہمہ جہت شخصیت کا مالک ہوتا ہے۔ راقم الحروف اگر چہ کوئی صحافی نہیں لیکن اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی کے سلسلے میں مجھے صحافت کے پیشے اور صحافیوں کے کام کے انداز کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ صحافت کو بطور پیشہ اپنانے اور بطور صحافی اپنی پہچان بنانے کے لئے مطلوبہ تعلیمی اہلیت کے علاوہ ذاتی حیثیت میں ایک انسان کو جن صلاحیتوں اور اوصاف کا مالک ہونا پڑتا ہے ان چند سطور میں ان سب کا احاطہ کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے۔ البتہ اپنی ذاتی مشاہدے کی بنا پر میں انتہائی وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ایک پشہ ور صحافی بننے کے لئے جو پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں وہ میری طرح کے لوگوں کے بس کی بات ہر گز نہیں۔ بطور صحافی خود کو منوانے کے لئے ایک کھٹن اور صبر آزما مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے، اس کے لئے طویل جدو جہد چاہئے، دن رات کی محنت مشقت چاہیئے ، جوش جزبہ چا ہیئے، صبر و استقامت چاہیے، برداشت اور حوصلہ چاہیے ۔
آجکل سوشل میڈیا کا زمانہ ہے یہ ابلاع عامہ کا وہ سستا آلا ہے جو اج کل ہر چھوٹے بڑے، امیر غریب اور مرد عورت سب کی مٹھی میں ہے۔ سوشل میڈیا نے سماجی رابطوں کو انتہائی سہل بنا دیا ہے اور یہ گھر بیٹھے بیٹھے اپنے پیغام اور ما فی الضمیر کو انتہائی کم وقت میں دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کے لئے ایک موثر پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر خبر رسانی اور ابلاغ عامہ کے لئے کسی ضابطہ اخلاق، نگرانی یا قدعن نہ ہونے کی وجہ سے ہر طرف غیر مصدقہ خبروں کی بھر مار ہے ۔ اج کل سوشل میڈیا کے حوالے سے ایک بہت ہی منفی رجحان تیزی سے فروع پا رہا ہے جو اس تحریر کا اصل موضوع بھی ہے۔ چونکہ سوشل میڈیا کم و بیش سب کی دسترس میں ہے اور اس کے استعمال کے حوالے سے کسی بھی قسم کے ضابطہ کار کی پابندی لازمی نہیں اس لئے ہر کوئی اپنی مرضی کے مطابق ایک بے لگام انداز میں اس کا استعمال کر رہا ہے۔ کچھ ناعاقبت اندیشوں نے اس کو صحافی بننے کے لئے شارٹ کٹ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ چونکہ آج کل انرایئڈ موبائل پہلے سے سب کے پاس موجود ہوتا ہے بس فیس بک یا یو ٹیوب پر مفت میں ایک اکاونٹ بنا لو اور 200 روپے والا ایک مائک خرید لو۔ لو جی اب آپ نہ صرف ایک صحافی بن گئے بلکہ ایک چینل کے بھی مالک ہیں جو جی میں آتا ہے کر لو، جس کسی کی بھی عزت اچھالنی ہے اچھا لو, جس کسی کی نجی زندگی میں گھسنا ہے گھس جاو ۔ مائک ہاتھ میں پکڑو، تھانے میں گھس جاو، عدالت میں گھس جاو، ہسپتال میں گھس جاو، سکول میں گھس جاو، بازار میں گھومو ، پارک میں گھومو، گلی محلوں میں گھومو،
جس کو بھی اپنے انٹرویو کے کٹہرے میں کھڑا کرنا ہے کرلو۔ نہ کوئی روک نہ کوئی ٹوک، نہ کوئی پوچھ نہ کوئی گچھ۔
ذاتی طور پر مجھے اس وقت بہت افسوس ہوتا ہے جب حکام سستی شہرت کے بھوکے ان عناصر کو نادانستہ طور پر اصل صحافی سمجھ کر ان کے سامنے با ادب انداز میں کھڑے ہو کر انہیں انٹرویو دیتے ہیں ۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ یہ خود ساختہ صحافی اکثر تھانوں میں گھس جاتے ہیں اور وہاں پر ملزمان کو انٹرویو کے لئے ان کے سامنے کھڑا کردیا جاتا ہے۔ پھر یہ نام نہاد صحافی ملزم کا انٹرویو لیتے ہوئے ایک منجھے ہوئے صحافی بننے کی ناکام کوشش تو کرتے ہی ہیں اوپر سے تفتیشی افسر، وکیل اور جج بھی بن جاتے ہیں۔
راتوں رات صحافی بننے اور سستی شہرت حاصل کرنے کا یہ عمل ہر لحاظ سے نا مناسب اور صحافتی قدروں کے منافی بلکہ صحافت کو بدنام کرنے اور سستی شہرت حاصل کرنے کا ایک بھونڈا طریقہ ہے۔ متعلقہ اداروں کو چاہئے کہ وہ اس بات کا سختی سے نوٹس لیں اور ایسے خود ساختہ اور نام نہاد صحافیوں کی حوصلہ شکنی کے لئے مناسب اقدامات کریں۔ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنا جہاں متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے وہاں پر پیشہ ور صحافیوں اور صحافتی تنظیموں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ایسے خود ساختہ صحافیوں کی نشاندہی کریں اور ان کی حوصلہ شکنی کے لئے متعلقہ حکام کے ساتھ قریبی روابط رکھیں تاکہ ایسے عناصر کے بھونڈے حرکات کی وجہ سے نہ صحافت کے پیشے کا تقدس پامال ہو اور نہی صحافیوں کی ساکھ پر کوئی آنچ آئے۔

راز ولی زاہد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button