خبریں

چترال اور چترالی

دنیا میں شاید کوئی ایسا ملک ہوجو چترال اور چترالیوں کے بارے میں وہاں کے باسی علم نہ رکھتے ہوں ۔میرے خیال میں چترال پاکستان کا وہ واحد علاقہ ہے جو پوری دنیا میں اپنی خوبصورتی اور کلچر کی وجہ سے نمایاں ہے پچھلے سال برطانیہ کے شہزادے اور شہزادی جب چترال میں اپنی زندگی کے حسین لمحات چترال کی کلچر میں گل مل کر گزار رہے تھے تو پوری دنیا کی نظریں چترال پر تھیں اور پوری دنیا کو پتہ چل گیا کہ چترال کتنا خوبصورت ہے اور چترال کی کلچر کی تو کیا بات ہے! ۔۔اور بھی ایسی کئی مثالیں ہیں جو چترال کی خوبصورتی اور کلچر کی عکاسی کرتی ہیں میں بیان کرنا نہیں چاہتا کیونکہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔آج اتفاق سے مجھے فیس بک ان کرنا پڑا،جیسے میں نے فیس بک کھولا تو تیرہ یا چودہ پیچوں میں ایک ہی ویڈیو گردش کرتی نظر آئ۔میں نے پہلے اس ویڈیو کو اگنور کیا جب دوبارہ وہی ویڈیو میرے نظروں سے گزری پھر میں نے بھی غور سے اس ویڈیو کا ملاحظہ کیا ۔اس ویڈیو میں ایسا کیا تھا کیوں اتنا زیادہ وائرل ہوئی وہ سب باتیں بعد میں کریں گے پہلے میں آپ کو بتاتا چلوں کہ انسان پر ماحول کا کیا اثرہوتا ہے اور اثرانداز ماحول میں رہ کر معاشرے کی لاج رکھنا،بحیثیت انسان اگر ہم سوچیں کہ ایک صدی پہلے دنیا کا ماحول کیسا تھا لوگ کس معاشرے میں زندگی گزار رہے تھے آیا کیا ان کے پاس کھانے کے لیے کھانا کیسا میسر ہوتا ہوگا ،پہننے کے لئے ان کے پاس کپڑے کیسے تھے ،ان کا اٹھنا بیٹھنا باہمی تعلقات اور ضروریات زندگی کس نوعیت کی تھی،تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انسان جس ماحول میں رہتا ہے اس ماحول میں ڈھل جاتا ہے کیونکہ ماحول انسان پر اثر انداز ہوتا ہے ۔معاشرے کی لاج کیسے رکھا جاتا ہے ۔

انسانی ماحول تہذیب و تمدن رسمو ریواج رہن سہن سے ہی معاشرہ بنتا ہے اگر کوئی فرد ایک معاشرے میں رہ کر بھی ان تمام چیزوں کا خیال نہ رکھے کوئی ایسا کام کرے جس کا اس معاشرے سے دور دور تک کوئی تعلق نہ ہو تو اس کا مطلب معاشرہ اور معاشرے میں رہنے والوں کو پیروں تلے کچل ڈالنے کی مترادف ہے۔البتہ معاشرے کی لاج تمام اصولوں کی پشت پناہی میں رکھنا ممکن ہو سکتا ہے۔۔

میرا مطلب میرا اشارہ اس ویڈیو کی جانب ہے جس کا تذکرہ میں نے اوپر کی ہے ۔میں اس ویڈیو کی بات کر رہا ہوں جس میں ہماری ایک معزز چترالی بہن اپنی صفائی پیش کرتی نظر آرہی ہے۔پاکستان ایک اسلامی ملک ہے یہاں ہر انسان آزادی سے زندگی گزار رہا ہے ۔چاہے وہ کسی بھی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہوں اس کو آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی آزادی رائے سے اپنی دفاع کرسکیں۔ اپنا حق کیلئے آواز بلند کر سکے ۔ہماری ایک چترالی بہن نے بھی ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنا موقف سب کے سامنے رکھ دیاہے۔میں نا چاہتے ہوئے بھی اس ویڈیو کے بارے میں لکھنے پر مجبور ہوگیا ۔ کیونکہ (پہلے چوری پھر سینہ زوری )مجھے بالکل پسند نہیں اور میں نے اس ویڈیو میں چار باتیں نوٹ کی ہیں جو میرے نزدیک قابل تنقید ہے آپ کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا ہوں

۔ہماری بہن نے بولا کہ وہ چترال کی خوبصورتی کو پروموٹ کرنے کے لیے ویڈیو بنایا ہےاس نے
یہ بھی فرمایا کہ وہ سوشل ایکٹیوسٹ ہے۔

ہماری بہن نے یہ بھی عرض کی کہ اس کے ماں باپ اس ویڈیو سے اور نیٹ سے لا علوم ہیں ۔معذرت کے ساتھ میں بھی اپنا رائے دینا چاہوں گا اگر میری باتیں کسی کو ناگوار گزری تو معاف کیجیے گا ۔۔ کون چاہتا ہے کہ چترال کی خوبصورتی چھپی رہے ،ہر چترالی چاہتا ہے کہ چترال یوں ہی ہنستا بستا رہے چترال کی خوبصورتی پوری دنیا کو معلوم ہو ۔سب چاہتے ہیں کہ چترال میں ٹوریزم پھر سے اپنی عروج کو پہنچے ۔لیکن خوبصورتی کی پروموشن کے لئے اور بھی کئی ذریعے ہیں آپ ڈاکومنٹری بھی بنا سکتی ہیں ،آپ نے فرمایا کہ آپ نے کئی ٹی وی چینلز کو انٹرویو دی ہیں تو اس کا مطلب آپ کے پاس ایک بہت بڑا اچھا پلیٹ فارم بھی موجود ہے آپ ٹی وی چینلز کے ذریعے چترال کی خوبصورتی کو پروموٹ کر سکتی ہیں ۔لیکن اگر آپ اس طرح ٹک ٹوک ویڈیو کے ذریعے کوشش کرے گی تو آپ کو اس طرح کی باتیں سننا پڑے گی کیونکہ میرے نزدیک،اور تمام چترالیوں کے نزدیک یہ چترال کی خوبصورتی کی پروموشن کے بجائے چترالی کلچر کا جنازہ نکلتا ہے ۔جس معاشرے میں چترال کے لوگ رہتے ہیں وہ معاشرہ ،اور وہ لوگ ان سب کی اجازت نہیں دیتے ۔دوسری بات ہماری بہن نے یہ کی کہ وہ سوشل ایکٹیوسٹ ہے میں اس سے صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگروہ سوشل ایکٹیوسٹ ہے تو اس مشکل وقت میں اس نے کیا سوشل ایکٹیویٹیز کی ،کیا نے کسی غریب کا حال پوچھا ،کسی کی مالی مدد کی کسی کے لیے اچھا سوچا ،یا صرف ٹک ٹوک ویڈیوز بناتی رہی ؟ایک اور اچھی بات اس نے کی اس نے بولا کہ اللہ کا عذاب آیا ہے اللہ سے ڈرو بہت اچھی بات ہے کیا آپ کو پتا ہے اللہ کا عذاب آیا ہے ،لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس عذاب کے وقت بھی آپ نے توبہ نہیں کی آپ کو ہم سب کو اس عذاب سے بچنے کے لیے مصلے پر رو رو کر اللہ سے دعا کرنی چاہئے ۔نہ کہ ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے چاہیے ۔آپ کی ایک اور بات مجھے بہت اچھی لگی ۔آپ نے بولا کہ دوسروں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکو میرے خیال میں یہ جملہ آپ کے لیے سوٹ کرتا ہے ۔۔

ایک اور اہم بات آپ نے اپنی زبان سے اقرار کیا کہ آپ کے ماں باپ کو نیٹ اور ان ویڈیوز کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں ہے اور جب ان کو پتہ چلا تو وہ ڈیپریشن کا شکار ہوئے یہ بات اس کی گواہی دیتا ہے کہ آپ کس قدر سادہ لوح گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں آپ کو اس طرح کی حرکات یا ویڈیوز بنانا چاہیے ۔؟ آپ خود فیصلہ کریں آپ اچھی طرح سمجھتی ہیں۔بات یہیں ختم نہیں ہوئی دل کو پاش پاش کرنے والی ایک اور بات آپ نے کی آپ نے حیا کے دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنی چترالی بہن کے حال ہی میں وائرل ہونے والی ویڈیو کے بارے میں ذکر کیا الفاظ آپ کے منہ سے نکل رہی تھی لیکن شرم سے میرا سر جھک رہا تھا ،کاش کہ آپ کو احساس ہوتا کہ آپ بھی ایک عورت ہیے۔کاش کی آپ کو سمجھ آتی کہ ایسے واقعات کیوں رونما ہوتے ہیں ، کاش کہ آپ کو پتہ ہوتا کہ ایسے واقعات حیا کے ختم ہو جانے سے پیش آتے ہیں اور حیاٹک ٹوک پر مجرہ کرنے سے ختم ہو جاتی ہے ۔۔کسی پر انگلی اٹھانا بہت آسان کام ہے اپنی غلطیاں اپنی تسلیم کرنا بہت مشکل ہے،لہذا پہلے خود کو ٹھیک کرو تاکہ آپ پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے اور آپ دوسروں پر ۔۔ کیونکہ تربوز تربوز کو دیکھ رنگ پکڑتا ہے۔۔۔تو لہٰذا اگر ہم اپنے معاشرے ،اپنے رسم و رواج ،اور اپنے آباؤ اجداد کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگی نہیں گزاریں گے تو ہمیں روز ایسے واقعات دیکھنے کو ملیں گے ۔اگر ہم چترال کے کلچر کی پاسداری کریں گے اور چیترالی بن کے رہیں گے تو انشاءاللہ ہر جگہ ہر وقت سرخرو ہو جائیں گے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button